پاکستان کرکٹ ٹیم ایک بار پھر میدان کے اندر خراب کارکردگی اور میدان سے باہر شدید اندرونی اختلافات اور سیاست کی وجہ سے شہ سرخیوں میں ہے۔ ڈھاکا میں بنگلہ دیش کے خلاف پہلے ٹیسٹ میچ میں 104 رنز کی عبرتناک شکست کے بعد اب قومی ٹیم کا ایک شدید ڈریسنگ روم تنازع کھل کر سامنے آ گیا ہے۔
رپورٹس کے مطابق ٹیسٹ ٹیم کے کپتان شان مسعود اور مایہ ناز فاسٹ بولر شاہین شاہ آفریدی کے درمیان میچ کے بعد ہونے والے ریویو سیشن میں سخت جملوں کا تبادلہ ہوا جس نے پاکستان کرکٹ میں ہلچل مچا دی ہے۔ اس تلخ کلامی کے بعد شاہین آفریدی کو بنگلہ دیش کے خلاف سلہٹ میں جاری دوسرے ٹیسٹ میچ کی پلیئنگ الیون سے بھی باہر کر دیا گیا ہے۔ آئیے تفصیل سے جانتے ہیں کہ اس رات ڈریسنگ روم میں اصل میں کیا ہوا تھا؟
ڈریسنگ روم میں کیا ہوا؟ شان اور شاہین کے درمیان تلخ کلامی کی وجہ
بنگلہ دیش کے خلاف پہلے ٹیسٹ میچ میں شکست کے بعد جب ٹیم مینجمنٹ اور کپتان نے کارکردگی کا جائزہ لینے کے لیے میٹنگ بلائی تو ماحول انتہائی گرم ہو گیا۔
کپتان شان مسعود کا اعتراض: ذرائع کے مطابق کپتان شان مسعود نے بولرز بالخصوص شاہین شاہ آفریدی کی بولنگ اسپیڈ (Speed) میں واضح کمی پر گہری تشویش کا اظہار کیا۔ انہوں نے نشاندہی کی کہ شاہین کی اوسط رفتار 132 کلومیٹر فی گھنٹہ تک گر چکی ہے جو کہ بنگلہ دیش کے فاسٹ بولر ناہید رانا کی 145 کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار کے سامنے انتہائی کمزور تھی۔ شان کا مؤقف تھا کہ پیس اٹیک کی سستی کی وجہ سے ٹیم حریف پر دباؤ برقرار رکھنے میں ناکام رہی۔
شاہین آفریدی کا جوابی حملہ: یہ تنقید سابق ٹی ٹوئنٹی کپتان شاہین آفریدی کو بالکل پسند نہیں آئی۔ انہوں نے فوری طور پر غصے میں جواب دیتے ہوئے سارا ملبہ پاکستان کی کمزور بیٹنگ لائن اپ پر ڈال دیا۔ شاہین نے یاد دلایا کہ ٹیم ایک وقت پر 349/5 کی مضبوط پوزیشن پر تھی لیکن بیٹنگ لائن بری طرح فلاپ ہوئی اور پوری ٹیم 368 رنز پر ڈھیر ہو گئی۔ انہوں نے کپتان شان مسعود کو مخاطب کرتے ہوئے سخت لہجے میں کہا کہ پہلے آپ اپنی بیٹنگ پر دباؤ کا جواب دیں اور اپنی پرفارمنس درست کریں۔ یاد رہے کہ شان مسعود نے اس ٹیسٹ میچ کی دونوں اننگز میں مجموعی طور پر صرف 11 رنز بنائے تھے۔
اس موقع پر سابق کپتان سرفراز احمد اور ہیڈ کوچ نے بیچ بچاؤ کروایا اور معاملے کو رفع دفع کرنے کی کوشش کی۔
Blame game begins in Pakistan dressing room↔️
— Firstpost Sports (@FirstpostSports) May 16, 2026
Shan Masood reportedly pointed fingers at Shaheen Shah Afridi after loss to Bangladesh but the pacer hit back telling the captain to mind his own performance🫨https://t.co/76xOgRNFIK
کیا شاہین شاہ آفریدی کو سزا کے طور پر ڈراپ کیا گیا؟
سلہٹ ٹیسٹ میچ شروع ہوتے ہی جب شاہین شاہ آفریدی کا نام پلیئنگ الیون میں شامل نہیں تھا، تو سوشل میڈیا پر یہ بحث تیز ہو گئی کہ انہیں کپتان سے بدتمیزی اور لڑائی کرنے کی سزا دی گئی ہے۔
اگرچہ باضابطہ طور پر پاکستان کرکٹ بورڈ (PCB) کی جانب سے اسے "ورک لوڈ مینجمنٹ” اور آرام دینے کا نام دیا جا رہا ہے لیکن کرکٹ ماہرین کا ماننا ہے کہ اس فیصلے کے پیچھے ڈریسنگ روم کی یہ گرما گرمی اور حالیہ خراب فارم ہی بنیادی وجہ ہے۔ شاہین آفریدی نہ صرف اسپیڈ کے مسائل سے دوچار ہیں بلکہ کپتان کے ساتھ ان کے تعلقات بھی اس وقت انتہائی نچلی سطح پر پہنچ چکے ہیں۔
پاکستان کرکٹ بورڈ (PCB) پر بیرونی اور اندرونی دباؤ
اس ڈریسنگ روم تنازع نے پاکستان کرکٹ بورڈ کے لیے بھی نئی مشکلات کھڑی کر دی ہیں۔ پہلے ٹیسٹ میں شکست کے ساتھ ساتھ آئی سی سی (ICC) نے سلو اوور ریٹ کی وجہ سے پاکستانی کھلاڑیوں پر میچ فیس کا 40 فیصد جرمانہ عائد کیا ہے اور ورلڈ ٹیسٹ چیمپئن شپ (WTC) کے قیمتی 8 پوائنٹس بھی کاٹ لیے ہیں۔
ان سخت سزاؤں اور مسلسل ہار نے کھلاڑیوں کے اعصاب پر گہرا اثر ڈالا ہے جس کا نتیجہ ٹیم کے اندر لڑائی جھگڑوں کی صورت میں نکل رہا ہے۔ پی سی بی کے حالیہ قوانین اور ضابطہ اخلاق کے مطابق کھلاڑیوں کے ایسے رویوں پر ان کے سینٹرل کنٹریکٹ پر بھی نظرثانی کی جا سکتی ہے۔






