آج، 21 اپریل 2026 کی صبح گڈانی مسافر کوچ میں آگ لگنے سے فضا سیاہ دھوئیں کے بادلوں سے ڈھک گئی کیونکہ ایک مسافر کوچ اچانک آگ کی لپیٹ میں آ کر مکمل طور پر خاکستر ہو گئی۔ ساحلی قصبے کو بلوچستان کے بڑے شاہراہوں کے نیٹ ورک سے جوڑنے والی مرکزی ہائی وے پر پیش آنے والے اس واقعے نے ایک بار پھر پبلک ٹرانسپورٹ کے حفاظتی معیارات کو قومی سطح پر بحث کا مرکز بنا دیا ہے۔
اطلاعات کے مطابق آگ انجن کے حصے سے شروع ہوئی اور دیکھتے ہی دیکھتے پوری گاڑی کو اپنی لپیٹ میں لے لیا۔ خوش قسمتی سے پلاسٹک جلنے کی بو محسوس ہونے پر مسافروں کی بروقت حاضری دماغی کے باعث آگ کیبن تک پہنچنے سے پہلے ہی بیشتر افراد گاڑی سے نکلنے میں کامیاب رہے۔ اگرچہ جائے وقوعہ پر کسی جانی نقصان کی اطلاع نہیں ملی، تاہم کئی افراد کو دھواں سانس میں جانے کی وجہ سے طبی امداد دی گئی۔
فوری پولیس کارروائی اور ڈرائیور کی گرفتاری
گڈانی مسافر کوچ میں آگ لگنے کے اس واقعے کے فوراً بعد مقامی قانون نافذ کرنے والے اداروں نے مستعدی کا مظاہرہ کیا۔ فائر ٹینڈرز کی جانب سے آگ بجھانے کے کچھ ہی دیر بعد گاڑی کے ڈرائیور کو حراست میں لے لیا گیا۔ بلوچستان پولیس کے ابتدائی بیان کے مطابق ڈرائیور سے گاڑی کی دیکھ بھال (Maintenance) کی تاریخ اور ایمرجنسی کی صورت میں اس کے فوری ردعمل کے حوالے سے پوچھ گچھ کی جا رہی ہے۔
حکام اس بات کا جائزہ لے رہے ہیں کہ کیا یہ حادثہ غفلت کا نتیجہ تھا خاص طور پر ان اطلاعات پر توجہ دی جا رہی ہے کہ کوچ کو معلوم مکینیکل خرابیوں کے باوجود چلایا جا رہا تھا۔ یہ گرفتاری ان ٹرانسپورٹرز کے خلاف بڑے کریک ڈاؤن کا حصہ ہے جو وقت بچانے کے چکر میں ضروری حفاظتی پروٹوکولز کو نظر انداز کرتے ہیں۔
گاڑیوں کے حفاظتی معیارات کی تحقیقات
اس واقعے کا سب سے تشویشناک پہلو نظامی ناکامی (Systemic Failures) ہے جس کی طرف اشارہ کیا گیا ہے۔ نیشنل ہائی وے اتھارٹی (NHA) نے جلی ہوئی گاڑی کے ملبے کے معائنے کے لیے ایک تکنیکی ٹیم روانہ کر دی ہے۔ تحقیقات کا مرکز دو بنیادی خدشات ہیں:
ایندھن میں غیر قانونی ترامیم: اس بات کی جانچ کی جا رہی ہے کہ کیا کوچ میں غیر معیاری گیس سلنڈرز یا اضافی فیول ٹینک استعمال کیے جا رہے تھے۔
آگ بجھانے کا نظام: کیا گاڑی میں وزارت مواصلات کی ہدایات کے مطابق فعال فائر ایکسٹینگوشرز (Fire Extinguishers) موجود تھے؟
ابتدائی نتائج سے ظاہر ہوتا ہے کہ آگ کے تیزی سے پھیلنے کی وجہ بجلی کی ناقص وائرنگ ہو سکتی ہے جو پرانی کوچز میں فٹنس انسپکشن نہ ہونے کی وجہ سے ایک عام مسئلہ ہے۔
مسافروں کی حفاظت کے حوالے سے بڑھتے ہوئے خدشات
آج کا واقعہ کوئی اتفاقی حادثہ نہیں ہے بلکہ یہ بلوچستان کی شاہراہوں پر چلتی پھرتی بھٹیوں کے ایک مسلسل تسلسل کی کڑی ہے۔ ٹرانسپورٹرز اکثر انسانی جانوں پر منافع کو ترجیح دیتے ہیں جس کی وجہ سے فٹنس سرٹیفکیٹس کو محض ایک رسمی کارروائی سمجھا جاتا ہے نہ کہ زندگی بچانے کی ضمانت۔
ضلعی انتظامیہ نے اعلان کیا ہے کہ کل سے تمام بڑے بس ٹرمینلز پر اچانک معائنہ (Surprise Inspections) کیا جائے گا۔ جن گاڑیوں میں ہنگامی اخراج کے راستے، آگ بجھانے کے آلات یا درست فٹنس سرٹیفکیٹ نہیں ہوں گے، انہیں فوری طور پر ضبط کر لیا جائے گا۔
مزید معلومات کے لیے Urdu Khabar وزٹ کریں۔






