سچ پوچھیں تو آج کل کراچی میں گھر کے راشن اور اخراجات کا حساب رکھنا کافی مشکل ہو گیا ہے، لیکن اگر تازہ دودھ آپ کی صبح کی چائے یا روزمرہ گھریلو معمولات کا لازمی حصہ ہے تو کراچی تازہ دودھ کی قیمت سے متعلق آپ کے لیے ایک اہم خبر ہے جس کا جاننا ضروری ہے۔
کراچی انتظامیہ نے مقامی ڈیری مارکیٹ کو ریگولیٹ کرنے کے لیے باضابطہ طور پر قدم اٹھاتے ہوئے، پورے شہر میں تازہ دودھ کی زیادہ سے زیادہ قیمتِ فروخت مقرر کر دی ہے۔ اور ہاں اس نئی قیمت کا اطلاق فوری طور پر ہو گیا ہے۔
یہاں دودھ کی نئی قیمتوں اور حکومت کی جانب سے ڈیری مالکان کے لیے بنائے گئے سخت نئے قوانین کی مکمل تفصیل دی گئی ہے۔
دودھ کی نئی قیمتوں کی تفصیل
کمشنر کراچی ڈویژن کے دفتر نے ایک باقاعدہ نوٹیفکیشن جاری کیا ہے جس میں سپلائی چین کے ہر درجے یعنی ڈیری فارم سے لے کر آپ کے محلے کی دودھ کی دکان تک کے لیے قیمتیں مقرر کر دی گئی ہیں۔
فی لیٹر قیمتوں کی سرکاری تفصیل درج ذیل ہے:
ریٹیلرز (وہ قیمت جو آپ دکان پر ادا کرتے ہیں): 240 روپے فی لیٹر
ہول سیلرز (تھوک فروش): 225 روپے فی لیٹر
ڈیری فارمرز: 215 روپے فی لیٹر
Milk prices in Karachi have been increased by Rs20 per litre, with authorities setting the new retail rate at Rs240 per litre.
— Geo English (@geonews_english) March 31, 2026
Visit our website: https://t.co/Io0cmmFdM4#GeoNews pic.twitter.com/jgvtkpWio7
ڈیری شاپ مالکان کے لیے سخت نئے قوانین
نوٹیفکیشن صرف قیمتیں مقرر کرنے تک محدود نہیں ہے بلکہ حکومت نے شہر میں دودھ فروخت کرنے کے طریقہ کار پر بھی سختی شروع کر دی ہے۔
سب سے پہلی بات روایتی پیمانے "سیر” کے حساب سے دودھ بیچنے پر اب مکمل پابندی عائد کر دی گئی ہے۔ تمام دودھ سختی سے صرف لیٹر کے حساب سے فروخت کیا جائے گا۔
دوسری بات کسی بھی دکاندار یا ڈیری ایسوسی ایشن کو اپنا ریٹ کارڈ بنانے کی اجازت نہیں ہے۔ حکام نے تمام متعلقہ افراد کے لیے لازمی قرار دیا ہے کہ وہ اپنی دکانوں پر حکومت کی منظور شدہ سرکاری قیمتوں کی فہرست نمایاں طور پر آویزاں کریں۔ اگر آپ کسی دودھ کی دکان پر جاتے ہیں تو وہاں 240 روپے فی لیٹر کی قیمت کا بورڈ واضح طور پر نظر آنا چاہیے۔
پاکستان کی تازہ ترین خبروں اور اپڈیٹس کے لیے ہماری ویب سائٹ Urdu Khabar وزٹ کریں۔
(FAQs)
کراچی میں تازہ دودھ کی نئی ریٹیل قیمت کیا ہے؟
تازہ ترین سرکاری نوٹیفکیشن کے مطابق، کراچی میں تازہ دودھ کی زیادہ سے زیادہ ریٹیل قیمت 240 روپے فی لیٹر مقرر کی گئی ہے۔
کیا ڈیری شاپس اب بھی ‘سیر’ کے حساب سے دودھ بیچ سکتی ہیں؟
جی نہیں۔ کراچی انتظامیہ نے ‘سیر’ کے حساب سے دودھ کی فروخت پر سختی سے پابندی عائد کر دی ہے۔ اسے صرف لیٹر کے حساب سے بیچا جا سکتا ہے۔
اگر کوئی دکاندار 240 روپے فی لیٹر سے زیادہ وصول کرے تو مجھے کیا کرنا چاہیے؟
دکاندار قانونی طور پر حکومت کے مقرر کردہ ریٹ پر دودھ بیچنے اور سرکاری قیمتوں کی فہرست نمایاں طور پر آویزاں کرنے کے پابند ہیں۔ زائد قیمت وصول کرنا سندھ ایسینشل کموڈٹیز پرائس کنٹرول ایکٹ کی خلاف ورزی ہے، اور آپ ایسے دکانداروں کی شکایت مقامی انتظامیہ یا صارفین کے حقوق کے محکموں (Consumer Rights Departments) کو کر سکتے ہیں۔
کیا اس نوٹیفکیشن کا اطلاق ڈبے والے (پیکجڈ) دودھ پر بھی ہوتا ہے؟
جی نہیں، کمشنر کراچی ڈویژن کی جانب سے جاری کردہ یہ مخصوص نوٹیفکیشن اور قیمتوں کی حد صرف ڈیری فارمرز، ہول سیلرز اور مقامی دکانداروں کے ذریعے فروخت ہونے والے کھلے، تازہ دودھ پر لاگو ہوتی ہے۔






