سندھ حکومت نے امتحانات میں نقل اور بدعنوانی کو روکنے کے لیے سوالیہ پرچوں پر نیا واٹر مارکنگ سسٹم متعارف کرانے کا ایک اہم اقدام اٹھایا ہے۔ یہ جدید نظام اس طرح ڈیزائن کیا گیا ہے کہ پرچہ آؤٹ ہونے (لیک ہونے) کی صورت میں فوری طور پر اس کے ماخذ کا پتہ لگایا جا سکے اور ملوث افراد کو سزا دی جا سکے۔
اس فیصلے کا باضابطہ اعلان سندھ کے وزیر برائے جامعات و بورڈز محمد اسماعیل راہو نے آئندہ تعلیمی امتحانات کی تیاریوں کے حوالے سے منعقدہ ایک اعلیٰ سطحی اجلاس کے دوران کیا۔
بورڈ چیئرپرسنز کے لیے سخت ہدایات
اجلاس کے دوران حکام نے مختلف امتحانی مراکز پر انتظامات کا تفصیلی جائزہ لیا۔ اس میں سیکیورٹی کے اقدامات، فرنیچر کی دستیابی، پینے کے پانی کی سہولیات، بجلی کی فراہمی اور نقل روکنے کے پروٹوکولز کا جائزہ شامل تھا۔ انہیں پروکیورمنٹ (خریداری)، ٹینڈرز اور بجٹ کی تقسیم پر بھی تفصیلی بریفنگ دی گئی۔
وزیر راہو نے تمام بورڈ چیئرپرسنز کو سخت ہدایات جاری کرتے ہوئے شفاف اور بروقت امتحانات کی ضرورت پر زور دیا۔ انہوں نے سخت وارننگ دی کہ حکومت کسی بھی قسم کی غفلت برداشت نہیں کرے گی اور اگر کسی کے دائرہ اختیار میں پرچہ لیک ہوا تو متعلقہ بورڈ چیئرمین کے خلاف سخت انتظامی کارروائی کی جائے گی۔
The Sindh govt has decided to implement a watermarking system to prevent cheating in examinations, with Minister for Universities & Educational Boards M Ismail Rahoo saying that those involved in paper leaks will be immediately traced through the system.https://t.co/nPeAfinGmc
— Raza Dharejo PPP (Official) (@RazaDharijo) March 28, 2026
سندھ بورڈ امتحانات کا شیڈول
مختلف ڈویژنز میں آئندہ بورڈ امتحانات کا تفصیلی شیڈول درج ذیل ہے:
| ڈویژن | کلاسز | شروع ہونے کی تاریخ |
| سکھر | نویں اور دسویں | 30 مارچ 2026 |
| کراچی | نویں اور دسویں | 7 اپریل 2026 |
| سکھر | گیارہویں اور بارہویں | 15 اپریل 2026 |
| کراچی | گیارہویں اور بارہویں | 25 اپریل 2026 |
ای مارکنگ (E-Marking) سسٹم کا وسیع پیمانے پر نفاذ
شفافیت اور جدید گریڈنگ کے معیار کو مزید بہتر بنانے کے لیےسندھ کے تعلیمی بورڈز جوابی کاپیوں کو چیک کرنے کے لیے فعال طور پر ای مارکنگ سسٹم نافذ کر رہے ہیں۔ اس پر عمل درآمد مختلف علاقوں میں مختلف ہے:
سکھر اور شہید بے نظیر آباد: حکام تمام امتحانات کی جانچ مکمل طور پر ڈیجیٹائزڈ ای مارکنگ سسٹم کے تحت کریں گے۔
لاڑکانہ بورڈ: ای مارکنگ کا استعمال کرتے ہوئے نویں سے بارہویں جماعت کے آٹھ مخصوص پرچوں کی جانچ کرے گا۔
کراچی بورڈ: نئے ڈیجیٹل سسٹم کے تحت نویں جماعت کے تمام پرچوں اور میٹرک کے دو مخصوص پرچوں کی جانچ کرے گا۔
امتحانی مراکز پر سیکیورٹی کے سخت اقدامات
امتحانی عمل کی شفافیت کو برقرار رکھنے کے لیے حکومت سخت سیکیورٹی پروٹوکول نافذ کر رہی ہے:
شکایتی سیل (Complaint Cell): امتحانی مراکز کی فعال نگرانی اور وجیلنس ٹیموں کے ساتھ ہم آہنگی کے لیے بورڈ سیکرٹری کے دفتر میں ایک صوبائی شکایتی سیل قائم کیا جائے گا۔
موبائل فون پر پابندی: حکام نے تمام امتحانی مراکز کے اندر موبائل فون لے جانے پر سخت پابندی عائد کر دی ہے۔
دفعہ 144: حکومت امتحانی مراکز کے ارد گرد دفعہ 144 نافذ کرے گی تاکہ غیر متعلقہ افراد کے جمع ہونے کو روکا جا سکے اور پرامن امتحانی ماحول کو یقینی بنایا جا سکے۔
(FAQs)
سندھ حکومت بورڈ امتحانات کے لیے کون سا نیا نظام متعارف کرا رہی ہے؟
سندھ حکومت امتحانی سوالیہ پرچوں پر ایک نیا واٹر مارکنگ سسٹم متعارف کرا رہی ہے۔ یہ نظام اس لیے ڈیزائن کیا گیا ہے تاکہ پرچہ لیک ہونے کی صورت میں فوری طور پر اس کا سراغ لگایا جا سکے اور نقل اور بدعنوانی میں ملوث افراد کو سزا دی جا سکے۔
سندھ میں 2026 کے بورڈ امتحانات کب شروع ہوں گے؟
نویں اور دسویں جماعت کے لیے امتحانات سکھر ڈویژن میں 30 مارچ اور کراچی میں 7 اپریل سے شروع ہوں گے۔ گیارہویں اور بارہویں جماعت کے لیے امتحانات سکھر میں 15 اپریل اور کراچی میں 25 اپریل سے شروع ہوں گے۔
ای مارکنگ سسٹم کیا ہے، اور یہ کہاں استعمال ہو رہا ہے؟
ای مارکنگ سسٹم طلباء کی جوابی کاپیوں کو چیک کرنے اور گریڈ دینے کا ایک ڈیجیٹل طریقہ ہے۔ یہ سکھر اور شہید بے نظیر آباد ڈویژنز کے تمام امتحانات میں مکمل طور پر لاگو کیا جائے گا، جبکہ لاڑکانہ اور کراچی بورڈز اسے مخصوص پرچوں کے لیے استعمال کریں گے۔
امتحانی مراکز پر کون سے سیکیورٹی اقدامات نافذ کیے جا رہے ہیں؟
شفاف امتحانات کو یقینی بنانے کے لیے حکام نے تمام امتحانی مراکز کے اندر موبائل فون پر سخت پابندی عائد کر دی ہے اور مراکز کے ارد گرد دفعہ 144 نافذ کی جائے گی۔ مزید برآں، مراکز اور وجیلنس ٹیموں کی نگرانی کے لیے ایک صوبائی شکایتی سیل بھی قائم کیا گیا ہے۔






