انٹرنیشنل ہاکی فیڈریشن (FIH) نے 16 ٹیموں پر مشتمل ہاکی ورلڈ کپ کے باضابطہ شیڈول کا اعلان کر دیا ہے۔ ہاکی کے شائقین کے لیے یہ انتہائی جوش و خروش کی بات ہے کیونکہ پاکستان ٹورنامنٹ کے پہلے ہی دن اپنی مہم کا آغاز کرے گا۔
انتہائی سخت اور مسابقتی ‘پول ڈی’ (Pool D) میں شامل پاکستان کا مقابلہ انگلینڈ، ویلز اور روایتی حریف بھارت سے ہوگا۔ پاکستان کے گروپ اسٹیج کے تمام میچز نیدرلینڈز کے شہر ایمسٹیلوین (Amstelveen) میں کھیلے جائیں گے۔
ہاکی ورلڈ کپ: پاکستان کا گروپ اسٹیج شیڈول
| تاریخ | میچ | وقت | تفصیل |
| 15 اگست | پاکستان بمقابلہ انگلینڈ | رات 10:00 بجے | – |
| 17 اگست | پاکستان بمقابلہ ویلز | سہ پہر 3:30 بجے | – |
| 19 اگست | پاکستان بمقابلہ بھارت | شام 6:00 بجے | گروپ اسٹیج کا سب سے بڑا اور منتظر میچ! |
ہاکی ورلڈ کپ ٹورنامنٹ کا فارمیٹ اور پولز
| پول | ٹیمیں |
| پول اے (A) | نیدرلینڈز (مشترکہ میزبان)، جاپان، ارجنٹائن، نیوزی لینڈ |
| پول بی (B) | بیلجیم (مشترکہ میزبان)، جرمنی (دفاعی چیمپئن)، فرانس، ملائیشیا |
| پول سی (C) | آسٹریلیا، اسپین، آئرلینڈ، جنوبی افریقہ |
| پول ڈی (D) | پاکستان، بھارت، انگلینڈ، ویلز |
ایف آئی ایچ (FIH) کے فارمیٹ کے مطابق چاروں پولز میں سے سب سے زیادہ اسکور کرنے والی ٹاپ دو ٹیمیں اگلے مرحلے میں داخل ہوں گی جہاں کل 8 ٹیموں پر مشتمل دو نئے گروپس (پول ای اور پول ایف) بنائے جائیں گے۔ ان نئے گروپس کی ٹاپ دو ٹیمیں سیمی فائنل کے لیے کوالیفائی کریں گی۔ورلڈ کپ کے ٹائٹل کا گرینڈ فائنل 30 اگست 2026 کو بیلجیم کے شہر ویور (Wavre) کے بیلفیس ہاکی ایرینا (Belfius Hockey Arena) میں کھیلا جائے گا۔
(FAQs)
2026 ہاکی ورلڈ کپ میں پاکستان کا پہلا میچ کب اور کس کے خلاف ہے؟
پاکستان اپنا پہلا میچ ٹورنامنٹ کے افتتاحی دن، 15 اگست 2026 کو انگلینڈ کے خلاف ایمسٹیلوین (نیدرلینڈز) میں کھیلے گا۔
ہاکی ورلڈ کپ میں پاکستان اور بھارت کا میچ کب ہوگا؟
گروپ اسٹیج کا سب سے بڑا اور سنسنی خیز مقابلہ پاکستان اور بھارت کے درمیان 19 اگست 2026 کو شام 6:00 بجے کھیلا جائے گا۔
پاکستان کو کس پول (Pool) میں رکھا گیا ہے؟
پاکستان کو اس ٹورنامنٹ کے پول ڈی (Pool D) میں روایتی حریف بھارت، انگلینڈ اور ویلز کے ساتھ رکھا گیا ہے۔
2026 ہاکی ورلڈ کپ کا فائنل کب کھیلا جائے گا؟
ورلڈ کپ کا گرینڈ فائنل 30 اگست 2026 کو بیلجیم کے بیلفیس ہاکی ایرینا میں کھیلا جائے گا۔






