جیسے ہی ماہِ رمضان اپنے آخری مراحل میں داخل ہو رہا ہے ہزاروں شہری بے صبری سے یہ سوال پوچھ رہے ہیں: کیا سندھ میں جمعۃ الوداع پر عام تعطیل ہوگی؟ اس کا جواب ‘ہاں’ ہے۔ حکومتِ سندھ نے رمضان المبارک کے آخری جمعہ کی مناسبت سے صوبے بھر میں عام تعطیل کا باضابطہ اعلان کر دیا ہے۔
یہ اعلان صوبائی وزیر سید ناصر حسین شاہ نے ایک ویڈیو بیان کے ذریعے کیا۔ یہ فیصلہ شہریوں کو سہولت فراہم کرنے کے لیے کیا گیا ہے تاکہ وہ اس مقدس دن کی مناسبت سے ہونے والے مذہبی اجتماعات اور خصوصی دعاؤں میں باآسانی شرکت کر سکیں۔
چھٹی کے اعلان کے ساتھ ہی صوبائی حکومت نے کئی بڑی انتظامی اور بنیادی ڈھانچے سے متعلق تبدیلیاں بھی متعارف کرائی ہیں۔ سندھ میں ہونے والی تازہ ترین اپ ڈیٹس کی تفصیل یہاں دی گئی ہے۔
نیا 4 روزہ ورک ویک اور کفایت شعاری کے اقدامات
ایک بڑی انتظامی پیش رفت کے طور پرحکومتِ سندھ نے تمام سرکاری دفاتر کے لیے باضابطہ طور پر چار روزہ ورک ویک (4-day workweek) متعارف کرا دیا ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ اس مستقل تبدیلی کا مقصد بھاری آپریشنل اخراجات کو کم کرنا اور محکموں کی مجموعی کارکردگی کو بہتر بنانا ہے۔
نئی انتظامی پالیسی کے اہم نکات درج ذیل ہیں:
کام کے دن: سرکاری محکمے اب صرف پیر سے جمعرات تک کام کریں گے۔
ہفتہ وار چھٹیاں: جمعہ، ہفتہ اور اتوار کو ہفتہ وار سرکاری تعطیلات ہوں گی۔
ایندھن میں کٹوتی: کفایت شعاری کے وسیع تر اقدامات کے تحت حکومت نے سرکاری گاڑیوں کے لیے ایندھن کے استعمال میں 50 فیصد تک کٹوتی کا فیصلہ کیا ہے۔
رہنماؤں کا ماننا ہے کہ یہ سخت اقدامات سرکاری اخراجات کو منظم کرنے میں نمایاں مدد کریں گے اور ساتھ ہی اس بات کو یقینی بنائیں گے کہ ضروری عوامی خدمات بغیر کسی تعطل کے جاری رہیں۔
کیا سندھ میں جمعۃ الوداع پر عام تعطیل ہوگی؟
جی ہاں، حکومتِ سندھ نے شہریوں کو خصوصی دعاؤں اور مذہبی اجتماعات میں شرکت کی سہولت دینے کے لیے باضابطہ طور پر جمعۃ الوداع (رمضان کے آخری جمعہ) کی عام تعطیل کا اعلان کیا ہے۔
سندھ کے سرکاری دفاتر کے لیے ورک ویک کی نئی پالیسی کیا ہے؟
حکومتِ سندھ نے 4 روزہ ورک ویک متعارف کرایا ہے۔ سرکاری دفاتر پیر سے جمعرات تک کام کریں گے جبکہ جمعہ، ہفتہ اور اتوار کو سرکاری ہفتہ وار تعطیلات ہوں گی۔
کیا شاہراہِ فیصل پر مذہبی جلوسوں کی اجازت ہے؟
نہیں، عدالتی احکامات پر عمل کرتے ہوئے حکومتِ سندھ نے شاہراہِ فیصل پر تمام ریلیوں اور مذہبی جلوسوں پر پابندی عائد کر دی ہے۔ جلوسوں کو اپنے روایتی اور مخصوص راستوں کی پیروی کرنی ہوگی






