ہائر ایجوکیشن کمیشن (ایچ ای سی) نے باضابطہ طور پر اپنے فیکلٹی ایکسچینج پروگرام کے اپ گریڈ شدہ ورژن کا آغاز کر دیا ہے۔ تعلیم کے شعبے میں اس اہم اقدام کا مقصد پاکستانی جامعات کے اساتذہ کو دنیا بھر کی صفِ اول کی بین الاقوامی جامعات میں پڑھانے اور اعلیٰ سطح کی تحقیق کرنے کے قیمتی مواقع فراہم کرنا ہے۔
ایچ ای سی فیکلٹی ایکسچینج پروگرام کیا ہے؟
نیا شروع کیا گیا یہ پروگرام دو طرفہ تعلیمی پل کی حیثیت رکھتا ہے۔ جہاں ایک طرف مقامی اساتذہ بین الاقوامی سطح پر تجربہ حاصل کریں گے وہیں ٹیکنالوجی کے لحاظ سے ترقی یافتہ ممالک کے غیر ملکی پروفیسرز بھی مقامی جامعات میں تدریسی خدمات انجام دینے کے لیے پاکستان کا سفر کریں گے۔ ایچ ای سی حکام کے مطابق یہ غیر ملکی فیکلٹی ممبران دو سے سولہ ہفتوں کی مخصوص مدت کے لیے پاکستانی جامعات میں قیام کریں گے اور پڑھائیں گے۔
یہ پروگرام تعلیمی معیار کو کیسے بلند کرے گا؟
صرف تدریسی عملے کے تبادلے سے ہٹ کر، اس اقدام کا مقصد مقامی نصاب کو مزید بہتر اور جدید بنانا ہے۔ اس فیکلٹی ایکسچینج پروگرام میں اعلیٰ تعلیم کے تمام درجات خاص طور پر انڈرگریجویٹ، ماسٹرز، اور پی ایچ ڈی (PhD) کی سطح پر جدید اور عالمی معیار کے کورسز متعارف کرانے کے اسٹریٹجک منصوبے شامل ہیں۔ اس تبادلے کا حتمی مقصد پورے پاکستان میں اعلیٰ تعلیمی اداروں کے تعلیمی معیار کو نمایاں طور پر مضبوط کرنا اور طویل المدتی تحقیقی اشتراک کو فروغ دینا ہے۔
پاکستانی جامعات کے لیے ایچ ای سی کا فیکلٹی ایکسچینج پروگرام کیا ہے؟
یہ ایچ ای سی کا ایک نیا اقدام ہے جو پاکستانی جامعات کے اساتذہ کو صفِ اول کے بین الاقوامی اداروں میں پڑھانے اور تحقیق کرنے کا موقع فراہم کرتا ہے اور اس کے ساتھ ہی غیر ملکی پروفیسرز کو پاکستان میں پڑھانے کے لیے لاتا ہے۔
بین الاقوامی پروفیسرز پاکستان میں کتنا عرصہ قیام کریں گے؟
اس اقدام کے تحت، ترقی یافتہ ممالک سے آنے والے غیر ملکی پروفیسرز دو سے سولہ ہفتوں کی مدت تک مقامی پاکستانی جامعات میں تدریسی فرائض انجام دیں گے۔
کیا ایچ ای سی اس پروگرام کے ذریعے نصاب میں نئے کورسز متعارف کرائے گا؟
جی ہاں اس ایکسچینج پروگرام میں ملک کے مجموعی تعلیمی معیار کو بلند کرنے کے لیے انڈرگریجویٹ، ماسٹرز اور پی ایچ ڈی کی سطح پر جدید کورسز متعارف کرانے کے جامع منصوبے شامل ہیں۔






