کیا مریم نواز نے اپنے بیٹے کو واقعی 14 کروڑ کی گاڑی تحفہ دی؟

  اس سے قبل خبریں منظر عام پر آئی تھیں کہ مسلم لیگ ن کی نائب صدر مریم نواز نے اپنے بیٹے جنید صفدر کو ایک مہنگی گاڑی تحفے میں دی ہے۔ 

خبروں کے مطابق جنید صفدر کو گاڑی شادی کے تحفے میں ملی۔ تاہم مریم نواز نے ان رپورٹس کو ’سانحہ جھوٹ‘ قرار دیا۔ 

 تفصیلات کے مطابو مسلم لیگ (ن) کے رہنما کے بیٹے کی دسمبر 2021 میں شادی ہوئی اور ان کی شادی کی شاندار تقریبات کا خوب چرچا ہوا۔ خبریں سامنے آئیں کہ مریم نواز نے جنید صفدر کو مرسڈیز جی 63 اے ایم جی تحفے میں دی ہے۔ 

  مزید یہ کہ اس گاڑی پر 5.3 ملین روپے ٹیکس ادا کیا گیا جو کہ پنجاب میں کسی گاڑی پر ادا کیا جانے والا اب تک کا سب سے زیادہ ٹیکس ہے۔ 

 مسلم لیگ ن کی رہنما کو اپنے بیٹے کو گاڑی تحفے میں دینے پر شدید تنقید کا سامنا کرنا پڑا۔ ناقدین اس سے پوچھتے رہے کہ اتنی مہنگی گاڑی خریدنے کے لیے پیسے کہاں سے آئے؟ قابل غور بات یہ ہے کہ نواز شریف خاندان پر کرپشن کے بہت زیادہ الزامات ہیں۔ 

 تاہم مریم نواز نے ٹویٹر پر اپنے بیٹے جنید صفدر کو مہنگی گاڑی دینے کی افواہوں کو بالآخر ختم کردیا۔ انہوں نے جعلی خبریں شیئر کرنے پر نیوز آؤٹ لیٹس کو تنقید کا نشانہ بنایا۔ مریم نواز نے اس افواہ کو سراسر جھوٹ قرار دیتے ہوئے کہا کہ اسے بغیر کسی تصدیق کے آنکھیں بند کرکے شیئر کیا جا رہا ہے۔ 

یہ بھی پڑھیں | شرمیلہ فاروقی کی والدہ کے میک اپ کا مذاق اڑانے پر نادیہ خان پر تنقید

مریم نواز نے ٹویٹ کیا کہ یہ صریح جھوٹ پورے سوشل میڈیا پر ہے۔ یہ مایوس کن ہے کہ کس طرح معروف اکاؤنٹس بغیر تصدیق کے جعلی خبروں کی تشہیر کرتے ہیں

 واضح رہے کہ یہ پہلا موقع نہیں جب مریم نواز کے بیٹے کے حوالے سے جعلی خبریں منظر عام پر آئیں۔ اکتوبر 2021 میں، خبر سامنے آئی کہ جنید صفدر پانچ آف شور کمپنیوں کے مالک ہیں۔ 

مریم نواز نے جھوٹی خبروں پر میڈیا کے خلاف مقدمہ چلانے کا ارادہ کیا۔  جنید صفدر کے آف شور کمپنیوں کے مالک ہونے کی خبر نے سوشل میڈیا پر دھوم مچا دی۔

 وزیراطلاعات فواد چوہدری سمیت دیگر لوگوں نے شریف خاندان کو “نہ ختم ہونے والی کرپشن” میں ملوث ہونے پر تنقید کا نشانہ بنایا۔  تاہم دلچسپ بات یہ ہے کہ پنڈورا پیپرز میں جنید صفدر کا نام ہی نہیں تھا۔ ان کی پانچ آف شور کمپنیوں کے مالک ہونے کی خبریں غلط تھیں۔

حرمین رضا

جاویریہ حارث اردو خبر میں پاکستان میں مقیم مصنف اور سابق ایڈیٹر ہیں۔