کرتارپور ہماری مذہبی  آزادی کو ظاہر کرتا ہے، جنرل قمر جاوید باجوہ

  آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے کہا ہے کہ کرتارپور راہداری مذہبی آزادی اور ہم آہنگی کے لیے پاکستان کے غیر متزلزل عزم کا عملی مظہر ہے۔ 

وہ 12 رکنی برطانوی سکھ فوجیوں کے وفد سے بات چیت کر رہے تھے جس کی سربراہی ڈپٹی کمانڈر فیلڈ آرمی یوکے میجر جنرل سیلیا جے ہاروی کر رہے تھے جنہوں نے منگل کو یہاں جنرل ہیڈ کوارٹرز میں ان سے ملاقات کی۔ 

آرمی چیف نے کہا کہ پاکستان تمام مذاہب کا احترام کرتا ہے

 آرمی چیف نے کہا کہ پاکستان تمام مذاہب کا احترام کرتا ہے اور ملک میں مذہبی سیاحت کے فروغ کی ضرورت کو بھی تسلیم کرتا ہے، وفد کے ارکان نے ملک کے قبائلی اضلاع میں امن اور معمول پر لانے کے لیے افواج پاکستان کی کوششوں کو سراہا۔

یہ بھی پڑھیں | پاکستان کا انڈیا کے پلان کے خلاف جی20 سے رابطہ کرنے کا فیصلہ

یہ بھی پڑھیں | چائے کی بجائے لسی اور ستو کو پروموٹ کریں، ایچ ای سی کی وائس چانسلرز کو ہدایت

پاکستان میں قیام کے دوران برطانوی سکھ فوجیوں نے لاہور کا دورہ کیا جہاں انہوں نے واہگہ بارڈر پر پرچم اتارنے کی تقریب کا مشاہدہ کیا۔ انہوں نے قلعہ لاہور، علامہ اقبال کے مزار اور بادشاہی مسجد کا دورہ کیا۔

 برطانوی سکھ فوجیوں نے ملک کے متعدد مذہبی مقامات کا بھی دورہ کیا، جن میں دربار حضرت میاں میر، حویلی نونہال سنگھ، گوردوارہ جنم استھان گرو رام داس، سمادی رنجیت سنگھ، گودوارہ ڈیرہ صاحب، کرتار پور کوریڈور، ننکانہ صاحب اور ڈیرہ پنجہ صاحب شامل ہیں۔ 

 وفد نے اورکزئی ضلع کا بھی دورہ کیا اور سمانہ قلعہ، لاک ہارٹ فورٹ اور سارہ گڑھی یادگار کا مشاہدہ کیا۔ یہ وہ جگہ تھی جہاں 1897 میں ایک برطانوی مہم کے حصے کے طور پر 21 سکھ فوجیوں نے اپنی جانیں دی تھیں اور یہ مقام سکھوں کے لیے بہت تاریخی اہمیت رکھتا ہے۔ وفد نے سارہ گڑھی یادگار پر پھولوں کی چادر چڑھائی۔

حرمین رضا

حرمین رضا اردو خبر میں پاکستان میں مقیم مصنف اور سابق ایڈیٹر ہیں۔