چین نے کورونا کی ویکسن بنالی، پاکستان میں بھی جلد ٹرائل شروع ہوگا

  اپریل 23  2020: (جنرل رپورٹر) چین کے سرکاری ٹیلی ویژن کے مطابق کورونا وائرس کی سی سی ٹی وی ویکسن ایجاد کر لی گئی ہے

تفصیلات کے مطابق چائنہ میں کورونا وائرس کے علاج کے طور پر تیار کی گئی ویکسن کے طبی تجربات کی منظوری دے دی گئی ہے اور جلد اس کے ٹرائل شروع ہو جائیں گے

پاکستانی اینکر پرسن سعدیہ افضال نے 92 چینل سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ چائنہ میں بننے والی کورنا ویکسن تین ماہ تک پاکستان میں لانچ ہو جائے گی- ان کا کہنا تھا کہ جہاں پوری دنیا کرورونا کے خوف میں مبتلاء ہے وہاں پاکستان کا کورونا وائرس کی ویکسن لانچ کرنا ایک عزت افزاء کام ہو گا- ان کا کہنا تھا کہ چائنہ نے کورونا وائرس کی ویکسن کے ٹرائل پر کام شروع کر دیا ہے اور یہ امید کی جا رہی ہے کہ تین ماہ کے اندر یہ پاکستان میں بھی لانچ ہو جائے گی

دوسری جانب چین کے سرکاری چینل کے مطابق کورونا کی سی سی ٹی وی ویکسن چین کی فوجی طب اکیڈمی کی تحقیقاتی ٹیم کی تیار کردہ ہے- بتایا گیا کہ کورونا ویکسن کی بھروسے, اثرپذیری اور معیار جیسے پیمانوں پر پرکھنے کے بعد بڑے پیمانے پر پیداوار کے لئے ابتدائی تیاریاں شروع کر دی گئی ہیں

تفصیلات کے مطابق چین فوجی اکیڈمی میں ایک سب یونٹ ویکسن کا بھی ہے جو بیالوجسٹ میجر جنرل چن وی کی زیر قیادت ہے- یہ ویکسن کورونا وائرس کی بیماری کا سبب بننے والی علاماتی بیماریوں کا علاج اور اینٹی جن حصوں پر مشتمل ہے- امید کی جا رہی ہے کہ چائنہ جلد ہی اس ویکسن کے ٹرائل شروع کرے گا

یاد رہے کہ کورونا وائرس جو چین کے شہر ووہان سے شروع ہوا اور دنیا بھر کو اپنی لپیٹ میں لیا اب تک لاکھوں اموات کی وجہ بن چکا ہے- پوری دنیا کے سائنسدان اس وقت کورونا کی ویکسن ایجاد کرنے پر دن رات محنت اور ریسرچ کر رہے ہیں- کوئی درمیان میں تو کوئی آخری مراحل میں ہے مگر حال ہی میں چین کے سرکاری ٹی وی نے کورونا کی سی سی ٹی وی ویکسن ایجاد کرنے کا دعوی کیا ہے- ان کا کہنا ہے کہ جلد اس کا ٹرائل بھی شروع کیا جائے گا

یاد رہے کہ اگر چین اس میں مکمل کامیاب ہو جاتا ہے تو پاکستان کی معیشت کو بھاری فائدہ ہو گا- سینئیر اینکر پرسن سعدیہ افضال کے مطابق تین ماہ کے اندر پاکستان کے کلینکس میں بھی کرونا کی ویکسن کا ٹرائل شروع ہو جائے گا جو کہ خوش آئیند بات ہے

شئر کریں

جاویریہ حارث

جاویریہ حارث اردو خبر میں پاکستان میں مقیم مصنف اور سابق ایڈیٹر ہیں۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *