پرویز خٹک اور وزیر اعظم کے درمیان سخت جملوں کا تبادلہ، کیا ماجرہ ہے؟

جمعرات کو حکمران اتحاد کی پارلیمانی پارٹی کے اجلاس کے دوران وزیراعظم عمران خان اس اور وزیر دفاع پرویز خٹک کے درمیان سخت جملوں کا مطالبہ ہوا۔ آخر یہ ماجرہ کیا ہے؟

 ذرائع کے مطابق، وزیر اعظم غصے میں آگئے اور انہوں نے وزیر دفاع کو “بلیک میل” نا کرنے کا کہا۔ وزیراعظم کی زیرصدارت پارلیمنٹ ہاؤس میں اجلاس ہوا۔ اجلاس میں متنازعہ ضمنی مالیاتی بل 2022 کی منظوری دی گئی جسے عام طور پر منی بجٹ کہا جاتا ہے۔ 

 ملاقات کے بعد وزیراعظم تقریباً پورا دن اپنے چیمبر میں بیٹھے رہے اور ان کی پاکستان تحریک انصاف اور حکمران اتحاد میں شامل دیگر جماعتوں سے تعلق رکھنے والے متعدد قانون سازوں سے ملاقات کی۔ 

 وزیر دفاع نے مبینہ طور پر اجلاس میں شرکت کرتے ہوئے کہا کہ خیبر پختومخواہ کی عوام کو گیس کے نئے کنکشن نہ دیئے گئے تو وہ وزیراعظم کو ووٹ نہیں دیں گے۔ 

یہ بھی پڑھیں | اپوزیشن کے شدید احتجاج کے باوجود حکومت منی بجٹ پاس کروانے میں کامیاب

تاہم، پرویز خٹک نے ملاقات کے بعد میڈیا کے نمائندوں کو بتایا کہ انہوں نے نہ تو وزیر اعظم سے سخت بات کی اور نہ ہی وزیر اعظم خان کو ووٹ نہ دینے کی کوئی دھمکی دی۔ 

 ذرائع نے بتایا کہ پرویز خٹک کا موقف تھا کہ بجلی اور گیس کی فراہمی کے معاملے میں کے پی کو نظر انداز کیا جا رہا ہے جبکہ دیگر صوبوں کے لوگ ان سہولیات سے مستفید ہو رہے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ وزیر دفاع نے وزیراعظم کو بتایا کہ اگر حالات ایسے ہی رہے تو کے پی کے لوگ پی ٹی آئی کو ووٹ نہیں دیں گے۔ 

 تاہم، پرویز خٹک نے پارلیمنٹ ہاؤس کی راہداریوں میں میڈیا کے نمائندوں کو بتایا کہ انہوں نے وزیر اعظم کے ساتھ بدتمیزی نہیں کی ہے اور انہوں نے صرف کے پی میں گیس کی قلت اور نئے گیس کنکشن پر پابندی کا معاملہ اٹھایا ہے۔ 

انہوں نے کہا کہ عمران خان میرے لیڈر اور وزیر اعظم ہیں اور میں نے انہیں یہ نہیں کہا کہ کے پی کے لوگوں کو گیس کنکشن نہ دیئے گئے تو میں انہیں ووٹ نہیں دوں گا۔ 

 انہوں نے کہا کہ وزیر اعظم عمران خان نےپرویز خٹک کو بتایا کہ وہ اپنی جیبیں بھرنے کے لیے اقتدار میں نہیں آئے اور ان کے پاس کوئی فیکٹری یا مل نہیں ہے۔ 

ذرائع نے بتایا کہ وزیر دفاع کی شکایت پر وزیر اعظم ناراض ہو گئے اور انہوں نے پرویز خٹک سے کہا کہ وہ انہیں “بلیک میل” کرنا بند کریں۔ اس پر وزیر دفاع میٹنگ ہال سے باہر چلے گئے لیکن بعد میں وزیراعظم نے انہیں واپس بلایا۔ 

 شہباز گل نے کہا کہ پرویز خٹک صرف ایک کپ چائے پینے کے لیے باہر گئے اور بعد میں واپس میٹنگ میں آگئے۔ 

 پرویز خٹک نے میڈیا کو بتایا کہ وہ میٹنگ ہال سے صرف سگریٹ نوشی کے لیے نکلے تھے۔ انہوں نے مزید کہا کہ میں سگریٹ نوشی کرتا ہوں اور میں سگریٹ نوشی کے لیے میٹنگ ہال سے باہر گیا تھا۔

حرمین رضا

جاویریہ حارث اردو خبر میں پاکستان میں مقیم مصنف اور سابق ایڈیٹر ہیں۔

ہمارا نیوز لیٹر جوائن کریں
تازہ ترین آرٹیکلز، نوکریوں اور تفریحی خبریں ڈائریکٹ اپنے انباکس میں حاصل کریں
یہاں ایک لاکھ ستر ہزار سبسکرائبرز ہیں