وہ چھ پھل جنہیں آپ غلط کھا رہے ہیں 

پھل ایک لذیذ، صحت بخش ناشتہ ہے جسے فرج سے باہر نکالنا اور کھانا آسان ہونا چاہیے۔ لیکن آپ نے اسے غلط طریقے سے کاٹ کر، چھیل کر اور کھا کر کتنا وقت (اور درحقیقت پھل بھی) ضائع کیا ہے؟ یہ اگر نہیں جانتے تو آئیے ہم آپ کو بتاتے ہیں۔

  اب آپ ذیل میں دی گئی معلومات کی بدولت اپنے میٹھے پھلوں کا زیادہ سے زیادہ استعمال کر سکتے ہیں۔ 

 اول۔ سیب

یہ محض ایک افواہ ہے کہ سیب کو لازما درمیان سے ہی کھانا شروع کرنا چاہیے۔ آپ سیب کو اوپری یا نیچلے حصے سے بھی کھانا شروع کر سکتے جیسے آپ آسانی محسوس کریں۔ اس کا چھلکا بعض لوگ اتارتے ہیں یہ بھی فائدہ کی بجائے فائدہ ختم کرتا ہے کیونکہ سیب کا چھلکا صحت کے لئے فائدہ مند ہوتا ہے۔

 دوم۔ کیلا 

یہ ہر شخص پر منحصر ہے کہ وہ کیلے کا چھلکا کس طرح اتارتا ہے۔ ظاہر ہے کویئ پابندی تو ہے نہیں جیسے آپ کی مرضی ویسے کریں اور ہم لوگ کرتے بھی مرضی ہی ہیں۔ لیکن اگر آپ ہماری بات مانیں تو آپ کو اپنے کیلے کو آسانی سے چھیلنے کے لیے نیچے سے شروع کرنا چاہیے۔ 

 سوم۔ انار 

انار سے دانے نکالنا بعض اوقات ناممکن محسوس ہوتا ہے اور یہ آپ کے باورچی خانے کو کافی گندہ کر سکتا ہے۔ تحقیق کے مطابق  پانی کا ایک پیالہ اس عمل کو اتنا آسان بنا دیتا ہے کہ آپ واقعی انار سے لطف اندوز ہو سکتے ہیں۔ ورنہ ہم لوگ تو اتنے سست ہیں کہ انار سے دانے نکالنے میں مشکل کے باعث انار کھانا ہی چھوڑ دیتے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں | پاکستان میں آم اور اس کی اقسام متعلق جانئے  

 چہارم۔ پستہ 

پستہ سے دانہ نکالنا اتنا مشکل کام نہیں ہے اگر وہ سہی سے پکا ہو تو۔ پستہ سے دانا زیادہ آسانی سے نکالنے کے لئے آپ کو پستہ کے چھلکے کے درمیان بنی سوراخ والی لائن سے شروع کرنا چاہیے تا کہ اسے کھولنا آپ کے لئے آسان ہو. 

 پنجم۔ آم 

پھسلنے والے آم کو چھیلنے کے لیے چھری کا استعمال برا طریقہ اور خطرناک ہے۔ اس کے لئے آپ ایک گلاس پانی میں اسے بھگوئیں اور ہاتھ سے ہی اس کا چھلکا اتاریں۔ یہ طریقہ آہ کو کافی آسان اور دیسی محسوس ہو گا۔ بلکہ اگر آم کو چھری کانٹے سے کاٹنے کی بجائے ہاتھ سے ڈائریکٹ کھائیں گے تو ایسے کھانے کا مزہ ہی کچھ اور ہے۔

 ششم۔ تربوز 

تربوز کو عجیب و غریب طریقوں سے کاٹنے کی بجائے آپ جو اسے پہلے دو اور پھر چار حصوں میں تقسیم کرنا چاہیے۔  اگر آپ اس طرح تربوز نہیں کاٹ رہے ہیں تو آپ اپنا وقت ضائع کر رہے ہیں۔

حرمین رضا

حرمین رضا اردو خبر میں پاکستان میں مقیم مصنف اور سابق ایڈیٹر ہیں۔