مودی نے مقبوضہ کشمیر میں اردو کی سرکاری حیثیت ختم کر دی

مودی باز نا آیا بلکہ مسلم دشمن اقدامات کو جاری رکھا۔ بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی کی جانب سے ایک اور مسلم دشمن اقدام اٹھا لیا گیا ہے جس میں کشمیری مسلمانوں کی زبان اردو کی سرکاری حیثیت کو ختم کر دیا گیا ہے۔

تفصیلات کے مطابق بھارتی حکومت کے اس فیصلے کے مطابق کشمیری مسلمانوں کی جانب سے بولے جانے والی اردو زبان کے وجود کی زندگی کو خطرہ لاحق ہو گیا ہے۔ 

زرائع کے مطابق کشمیر میں 131 سال سے اردو زبان بولی جا رہی ہے جبکہ اب اردو کی سرکاری حیثیت ختم کر دی گئی ہے۔ 

یاد رہے کہ مقبوضہ کشمیر میں اردو، انگلش، ہندی کشمیری اور ڈوگری زبان کو سرکاری حیثیت حاصل تھی لیکن اب اردو زبان کی سرکاری حیثیت کو ختم کر دیا گیا ہے۔ 

یاد رہے کہ اس سے پہلے بھی مودی کی جانب سے بہت سے مسلم مخالف اقدامات کئے گئے جن میں کشمیر میں کرفیو لگانا اور خصوصی حیثیت کو ختم کرنا سر فہرست ہے۔

شئر کریں

جاویریہ حارث

جاویریہ حارث اردو خبر میں پاکستان میں مقیم مصنف اور سابق ایڈیٹر ہیں۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *