مصنف کے بارے میں

صفحۂ اول

مندر پر حملہ کے الزام میں عدالت کا تمام ملزمان کو گرفتار کرنے کا حکم

رحیم یار خان مندر کی بے حرمتی پر پولیس کی جانب سے کارروائی نہ کرنے پر چیف جسٹس گلزار احمد نے جمعہ کو پنجاب پولیس کو ہدایت کی ہے کہ وہ واقعے کے تمام ذمہ داروں کو گرفتار کرے۔ 

یاد رہے کہ چیف جسٹس نے ایم این اے اور سرپرست اعلیٰ پاکستان ہندو کونسل رمیش کمار سے ملاقات کے بعد رحیم یار خان میں مندر پر حملے کا ازخود نوٹس لیا تھا۔

تفصیلات کے مطابق لاٹھیوں اور نعروں سے لیس ہجوم نے بدھ کے روز بھونگ ، رحیم یار خان میں ایک ہندو مندر میں توڑ پھوڑ کی تھی۔ ہجوم کو ہندو عبادت گاہ میں نعرے لگاتے اور بتوں کی بے حرمتی کرتے دیکھا گیا۔ 

یہ بھی پڑھیں | بیوی کے مقابلے میں حسین کی حالت زیادہ ہونی چاہیے ، صداف کنول کے بیان پر مختلف تبصرے

اس واقعہ کا ایک ویڈیو کلپ سوشل میڈیا پر وائرل ہوا  جس میں متعدد افراد کی جانب سے شدید تنقید کی گئی۔ جسٹس گلزار نے افسوسناک واقعے پر تشویش ظاہر کی تھی اور چیف سیکرٹری پنجاب اور آئی جی پی پنجاب کو عدالت عظمیٰ میں پیش ہونے اور واقعے سے متعلق رپورٹ پیش کرنے کے لیے طلب کیا تھا۔

 آج سماعت کے دوران ، چیف جسٹس نے اس واقعے پر برہمی کا اظہار کیا اور حکام کو سرزنش کرتے ہوئے کہا کہ اس حملے نے دنیا بھر میں پاکستان کی ساکھ کو شدید نقصان پہنچایا ہے۔ چیف جسٹس نے پوچھا کہ پولیس اور انتظامیہ کیا کر رہی ہے؟  آئی جی پی انعام غنی نے کہا کہ اسسٹنٹ کمشنر اور اے ایس پی جائے وقوعہ پر موجود ہیں اور انتظامیہ کی ترجیح مندر کے قریب 70 ہندو خاندانوں کو سیکورٹی فراہم کرنا ہے۔ 

ایف آئی آر میں دہشت گردی کی دفعات شامل کی گئی ہیں۔ چیف جسٹس گلزار نے کہا کہ اگر ڈپٹی کمشنر اور ڈی پی او اپنے فرائض انجام نہیں دے سکتے تو انہیں نوکری ختم کر دینی چاہیے۔

عدالت کے ہوچھنے پر آئی جی انعام غنی نے عدالت کو بتایا کہ ابھی تک اس کیس کے سلسلے میں کوئی گرفتاری عمل میں نہیں آئی۔ ایڈیشنل اٹارنی جنرل سہیل محمود نے کہا کہ وزیراعظم عمران خان نے معاملے کا نوٹس لیا ہے۔ اس پر چیف جسٹس گلزار نے کہا کہ عدالت کیس کے قانونی نقطہ نظر پر توجہ مرکوز کرے گی۔ 

چیف جسٹس نے مایوس ہو کر کہا کہ تین دن گزر گئے ، لیکن کسی کو گرفتار نہیں کیا گیا۔ جسٹس امین نے کہا کہ پولیس اپنی ڈیوٹی انجام دینے میں ناکام رہی ہے۔ اگر فورس میں پیشہ ور افسران ہوتے تو یہ مسئلہ اب تک حل ہو چکا ہوتا۔

 انہوں نے مزید کہا کہ اس پر غور کرنا چاہیے کہ اس واقعے نے پاکستانی ہندوؤں کو کس طرح متاثر کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ سوچئے کہ اگر مسجد پر حملہ ہوتا تو مسلمانوں کا کیا رد عمل ہوتا۔ انہوں نے ایک 8 سالہ ہندو لڑکے کے بارے میں بھی پوچھ گچھ کی جسے پولیس نے گرفتار کیا۔

  جسٹس گلزار نے اس ایس ایچ او کو ہٹانے کا حکم دیا جس نے لڑکے کو گرفتار کیا اور سوال کیا کہ آپ کے خیال میں ایک 8 سالہ لڑکا مذہب کے بارے میں کتنا جانتا ہے؟

حرمین رضا

جاویریہ حارث اردو خبر میں پاکستان میں مقیم مصنف اور سابق ایڈیٹر ہیں۔