مسلمان ہونا جرم؛ اسی لئے وزارت سے ہٹایا گیا، سابق برطانوی وزیر کا بیان

برطانوی وزیر اعظم بورس جانسن نے ایک مسلم سابق وزیر کے ان دعوؤں کی تحقیقات کا حکم دیا ہے کہ انہیں ان کے عقیدے (اسلام) کی وجہ سے ان کی حکومت سے برطرف کیا گیا تھا۔

  سابق جونیئر ٹرانسپورٹ منسٹر نصرت غنی کے دعووں نے ڈاؤننگ سٹریٹ کے لیے تازہ تنازعہ کھڑا کر دیا ہے کیونکہ بورس جانسن “پارٹی گیٹ” کے انکشافات کے بارے میں ایک مختلف انکوائری کے نتائج کا انتظار کر رہے ہیں۔ 

 ترجمان نے کہا ہے کہ وزیراعظم نے کیبنٹ آفس سے کہا ہے کہ وہ نصرت غنی ایم پی کی جانب سے لگائے گئے الزامات کی تحقیقات کرے۔

بورس جانسن نے ابتدائی طور پر نصرت غنی پر زور دیا تھا کہ وہ کنزرویٹو پارٹی کے ذریعے باضابطہ شکایت درج کرائیں۔ لیکن اس نے انکار کرتے ہوئے کہا کہ یہ الزام پارٹی کے کام کے بجائے حکومت پر مرکوز ہے۔ 

 ترجمان نے کہا کہ وزیر اعظم نے اب حکام سے کہا ہے کہ وہ حقائق کو دیکھیں کہ کیا ہوا ہے۔

یہ بھی پڑھیں | پاکستان نے افغان طالبان کو “ٹی ٹی پی” کو ایک ٹیسٹ کیس کے طورپر لینے کا کہہ دیا

 انہوں نے مزید کہا کہ بورس جانسن ان دعووں کو بہت سنجیدگی سے لیتے ہیں۔

نصرت غنی نے نئی تحقیقات کا خیرمقدم کیا ہے جس کا اعلان اتوار کی شام جانسن کے ساتھ بات چیت کے بعد کیا گیا۔

انہوں نے کہا کہ جیسا کہ میں نے کل رات وزیر اعظم سے کہا۔ میں صرف اتنا چاہتی ہوں کہ اسے سنجیدگی سے لیا جائے اور ان سے تحقیقات کی جائیں

 انہوں نے مزید کہا کہ انکوائری میں اس بات کا جائزہ لینا چاہیے کہ اسے ڈاؤننگ اسٹریٹ کے معاونین اور پارلیمنٹ میں کنزرویٹو وہپ دونوں نے کیا بتایا تھا۔ 

یاد رہے کہ 49 سالہ غنی کو 2020 میں ٹرانسپورٹ کے وزیر کے عہدے سے برطرف کر دیا گیا تھا اور سنڈے ٹائمز کو بتایا کہ ایک وہپ نے کہا کہ ڈاؤننگ سٹریٹ میں ایک میٹنگ میں ان کی مسلمانیت کو ایک مسئلہ کے طور پر اٹھایا گیا۔

 انہوں نے دعویٰ کیا کہ انہیں یہ بھی بتایا گیا کہ مسلم خاتون وزیر کا درجہ ساتھیوں کو بے چین کر رہا ہے۔

حرمین رضا

جاویریہ حارث اردو خبر میں پاکستان میں مقیم مصنف اور سابق ایڈیٹر ہیں۔