مسلمان طالبات نے حجاب پر پابندی کے باعث انڈین سکولز میں جانا بند کر دیا

این ڈی ٹی وی کے ریئلٹی چیک کے مطابق، الماس، ہندوستان میں حجاب پہننے والی ایک مسلمان طالبہ نے کہا ہے کہ وہ حجاب کے بغیر کالج جانے کے بجائے کالج ہی نہیں جائے گی۔ 

وہ ان طالبات میں سے ایک ہیں جنہوں نے کرناٹک ہائی کورٹ کی طرف سے حجاب پر حکومت کی پابندی کے خلاف عدالت میں احتجاج کیا تھا۔ 

 عدالت نے حال ہی میں کلاس رومز میں حجاب پہننے پر پابندی لگا دی ہے اور دعویٰ کیا ہے کہ حجاب پہننا اسلامی عقیدے میں ضروری مذہبی عمل نہیں ہے۔

یہ بھی پڑھیں | معروف برانڈ نے ثنا جاوید کو تشہیری مہم سے الگ کر دیا   

ویڈیو میں الماس نے یہ ثابت کرنے کے لیے قرآن پاک کے متعدد ابواب کا حوالہ دیا کہ حجاب پہننا اسلام میں خواتین کے لیے ایک لازمی امر ہے۔ جب ان سے پوچھا گیا کہ اب وہ کلاس رومز میں ان پریشانیوں کا سامنا کیسے کریں گی جب کہ حجاب پر پابندی ہے تو اس نے کہا کہ وہ اور ان جیسے بہت سے لوگ کالج جانا چھوڑ دیں گے۔ 

 انہوں نے دعویٰ کیا کہ عدالت ہمیں ہمارے آئینی حق سے محروم کر رہی ہے۔ 

 الماس نے مزید کہا کہ کوویڈ سے پہلے، حجاب پہننے والی مسلم لڑکیوں کے ساتھ کلاسوں میں غیر منصفانہ سلوک کیا جاتا تھا۔ تاہم، اس سے پہلے کہ طلباء اس کے خلاف کھڑے ہو جاتے، کوویڈ کی وجہ سے اسکول بند ہو گئے۔ 

 نوجوان طالبہ نے بتایا کہ کوویڈ کے بعد اسکول کھلنے کے بعد سے یہ معاملہ پھر سے بڑھ گیا ہے۔

حرمین رضا

جاویریہ حارث اردو خبر میں پاکستان میں مقیم مصنف اور سابق ایڈیٹر ہیں۔