مصنف کے بارے میں

صفحۂ اول

قربانی کی بجائے فلاحی کام؟ سوچے سمجھے منصوبے کے پیچھے کون سی طاقتیں ہیں؟

جیسے ہی قربانی جیسی عظیم عبادت کے دن آتے ہیں کچھ نام نہاد فلاسفر یہ کہتے دکھائی دیتے ہیں کہ قربانی کرنے کی بجائےکولر لگوا لو یا دیگر فلاحی کام کر لو اور قربانی نا کرو جبکہ یہی لوگ شادیوں اور دیگر تقریبات میں بےشمار پیسے کا ضیاع کرتے ہیں۔

قربانی رب تعالی کی جانب سے امراء پر واجب ہے جبکہ کوئی اور فلاحی کاماس کی جگہ نہیں لےسکتا ہے۔ یہ ایک سیدھی سی بات ہے جو آج کے نام نہاد فلاسفر کی سمجھ میں نہیں آتی۔

غریدہ فاروقی نے حال ہی میں ٹویٹ کیا کہ اگر آپ کسی جانور کی جان بچاسکتے ہیں تو بچا ہیں۔ جی لیکن یہ جانب بچانے والا جذبہ اس وقت کہاں جاتا ہے جب آپ کے ایف سی سے چکن برگر کھاتے ہیں؟؟

یہ بھی پڑھیں | قائمہ کریکٹر عبد الرزاق کی خواتین کریکٹر کی ناجائز تجزیہ

یہ جانور کی جان بچانے والا جذبہ اسوقت کہاں جاتا ہے جب آپ مزے سے بار بی کیو کرتے ہیں؟ 

سوشل میڈیا پر غریدہ فاروقی کے بیان کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا جا رہا ہے اور ان سے اپنی عقل کو اسلام پہ استعمال کرنے پر لعن طعن بھی کیا جا رہا ہے۔ 

مختصر یہ کہ یہ ایک سوچی سمجھی سازش کے تحت لبرلز کی جانب سے عوام الناس کو قربانی جیسے عظیم فرض سے دور کرنے کی ناکام کوشش ہے۔ اور صرف یہی نہیں بلکہ اگر قربانی نا ہو تو کڑوڑوں اربوں کا کاروبار بھی نا ہو۔ بیچارا قصائی دیہاڑی نہیں لگا سکے۔ 

کم از کم لاکھوں کڑوڑوں افراد کا کاروبار عید قربان پر پروان چڑھتا ہےجس سے خوشحالی آتی ہے۔ بالفرض کوئی معاشی فائدہ نا بھی ہو تو جس نے ہمیں پیدا کیا اور مذہب اسلامپر استقامت دی، ہمیں قربانی اس کا حکم اور دلیل سمجھ کر ہر صورت کرنی ہے۔

حرمین رضا

جاویریہ حارث اردو خبر میں پاکستان میں مقیم مصنف اور سابق ایڈیٹر ہیں۔