فیصل آباد میں برہنہ خواتین کے واقعے کی اصلیت سامنے آگئی

 فیصل آباد فیصل آباد

سوشل میڈیا پر طوفان برپا کرنے والے فیصل آباد واقعے کی ایک نئی سی سی ٹی وی ویڈیو سوشل میڈیا پر سامنے آئی ہے جس میں مبینہ طور پر خواتین کو اپنے کپڑے پھاڑتے ہوئے دیکھا جا سکتا ہے۔ 

منگل کو مردوں کی طرف سے خواتین کو مارنے اور برہنہ کرنے کی ایک پریشان کن اور خوفناک ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہوئی تھی۔ فیصل آباد میں خواتین کا گروہ مبینہ طور پر دکان سے چوری کرتے ہوئے پکڑا گیا تھا۔ 

ابتدائی رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ مردوں نے خواتین کو دکان سے چوری کرتے ہوئے پکڑا۔ انہیں مارا پیٹا اور برہنہ کردیا۔ خواتین کی اونچی آواز میں رونے اور کپڑے کے ٹکڑے سے اپنے آپ کو ڈھانپنے کی ویڈیوز سوشل میڈیا پر گردش کر رہی ہیں۔

 سیالکوٹ واقعہ کے بعد فیصل آباد کی خواتین کی تازہ ترین ویڈیوز نے قوم کے غصے کو مزید بھڑکا دیا۔ ٹویٹر صارفین کی جانب سے مذمتی پیغامات سامنے آئے جنہوں نے حکام سے مطالبہ کیا کہ وہ فوری طور پر ملزمان کی گرفتاری اور ان کے خلاف سخت کارروائی کریں۔ 

یہ بھی پڑھیں | وزیر اعظم ہاؤس میں مقتول سری لنکن مینجر کے حوالے سے آج تعزیتی ریفرنس منعقد ہو گا   

 کہانی میں ایک نیا موڑ 

تاہم سوشل میڈیا پر سی سی ٹی وی ویڈیو سامنے آئی ہے جس نے واقعے کو نیا رخ دے دیا ہے۔ ایک نئی سی سی ٹی وی فوٹیج میں خواتین کو اپنے اردگرد موجود مردوں سے بچنے کے لیے اپنے کپڑے خود پھاڑتے ہوئے دکھایا گیا ہے۔ ویڈیو میں دیکھا جا سکتا کہ خواتین نے خود اپنے کپڑے پھاڑے اور خود کو ننگا کیا۔ جبکہ چند مرد خواتین کو پکڑنے کے لیے ان کے پیچھے بھاگے، دوسرے مردوں نے ایک عورت کو پکڑ کر دکان میں بند کردیا۔ عورتیں پھر مردوں سے لڑتی رہیں۔ 

 ویڈیو شیئر کرنے والے ٹویٹر صارف نے کہا کہ سی سی ٹی وی کیمرہ فوٹیج کا شکریہ جس نے عورت مارچ کو روکا! ہر وقت مرد غلط نہیں کرتے۔ ہاں، کچھ بیمار لوگ ہیں لیکن ہمیں حقائق تک پہنچنا چاہیے اور پھر تشویش کا اظہار کرنا چاہیے۔ ہمیں مینار پاکستان کے واقعے سے کچھ سیکھنا چاہیے تھا۔

 اطلاعات کے مطابق، پولیس نے خواتین پر حملہ کرنے، برہنہ کرنے اور مار پیٹ کرنے کے الزام میں پانچ مردوں کو گرفتار کیا ہے۔

حرمین رضا

جاویریہ حارث اردو خبر میں پاکستان میں مقیم مصنف اور سابق ایڈیٹر ہیں۔

ہمارا نیوز لیٹر جوائن کریں
تازہ ترین آرٹیکلز، نوکریوں اور تفریحی خبریں ڈائریکٹ اپنے انباکس میں حاصل کریں
یہاں ایک لاکھ ستر ہزار سبسکرائبرز ہیں