عمران خان نے خود کو شہباز گل کے بیان سے الگ کر لیا

چیف آف سٹاف شہباز گل

پی ٹی آئی کے چیئرمین اور سابق وزیر اعظم عمران خان نے اپنے چیف آف سٹاف شہباز گل کے اس ماہ کے شروع میں اے آر وائی نیوز پر نشر کیے گئے متنازعہ ریمارکس سے خود کو الگ کر لیا ہے۔ انہوں نے یہ تسلیم کیا کہ وہ “غلط” تھے اور انہیں ایسا نہیں کہنا چاہیے تھا۔ 

شہباز گِل کو گزشتہ ہفتے دارالحکومت کے بنی گالہ چوک سے گرفتار کیا گیا تھا جب ان کے متنازعہ ریمارکس کی ایک ویڈیو کلپ، جو اے آر وائی نیوز پر نشر ہوئی، سوشل میڈیا پر وائرل ہوئی تھی۔

 بعد ازاں ان پر بغاوت اور عوام کو ریاستی اداروں کے خلاف اکسانے کے الزام میں مقدمہ درج کیا گیا۔ وہ اس وقت راولپنڈی کی اڈیالہ جیل میں قید ہیں۔ 

فوج کو اکسانے

 آج جی این این نیوز پر صحافی فریحہ ایم ادریس کے ساتھ ایک انٹرویو میں، عمران خان نے کہا: “انہیں [ شہباز گل] کو یہ نہیں کہنا چاہئے تھا کیونکہ یہ فوج کو اکسانے کے زمرے میں آتا ہے۔ ہم فوج کو ایک مضبوط ادارے کے طور پر دیکھنا چاہتے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں | فواد چوہدری نے وزیر اعظم کے “میثاق معیشت” کے مشورے کو مضحکہ خیز قرار دیاہ

یہ بھی پڑھیں | پہلے ایٹمی اسلامی ملک کا شہری ہونے پر فخر ہے، حمزہ شہباز

 تاہم، پی ٹی آئی کے سربراہ عمران خان نے کہا کہ ماضی میں اتحادی حکومت کے رہنماؤں مولانا فضل الرحمان، مریم نواز، ایاز صادق، نواز شریف اور دیگر کی جانب سے بھی اسٹیبلشمنٹ کے خلاف بیانات پاس کیے گئے۔ “لیکن ان کے ساتھ کیا ہوا؟” 

عمران خان نے کہا کہ وہ جیل میں شہباز گل کے ساتھ کیے گئے سلوک سے “انتہائی پریشان” ہیں۔ “یہ انتہائی تکلیف دہ ہے۔ مجھے یہ بھی معلوم نہیں تھا۔ ہمارے وکلاء نے ہمیں بتایا کہ اس کے کپڑے اتار دیے گئے اور اسے مارا پیٹا گیا ۔

عمران خان کے خلاف بیان

عمران خان نے مزید الزام لگایا کہ وہ تشدد کر رہے ہیں اور اسے ذہنی طور پر توڑنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ اور وہ اسے عمران خان کے خلاف بیان دینے پر مجبور کر رہے ہیں۔

   انہوں نے مزید انکشاف کیا کہ شہباز گل سے عمران خان اور لیفٹیننٹ جنرل فیض حمید کی ملاقاتوں کے بارے میں پوچھا گیا۔ 

 پی ٹی آئی کے خلاف پروپیگنڈا مہم 

 عمران خان نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ شہباز گل کے ساتھ جو کچھ ہوا وہ پی ٹی آئی کے حامیوں کو ڈرانے اور یہ تاثر پیدا کرنے کی سازش تھی کہ پی ٹی آئی فوج اور شہداء کے خلاف ہے۔

 انہوں نے الزام لگایا کہ یہ پروپیگنڈا مہم وزیر اعظم سیل میں بنائی گئی تھی۔ انہوں نے مزید کہا کہ اے آر وائی نیوز کی بندش بھی سازش کا حصہ تھی۔

حرمین رضا

جاویریہ حارث اردو خبر میں پاکستان میں مقیم مصنف اور سابق ایڈیٹر ہیں۔