عمران خان نے اسامہ بن لادن کو شہید قرار دے دیا ،عالمی میڈیا کی تنقید

جون 26 2020: (جنرل رپورٹر) گزشتہ روز قومی اسمبلی میں تقریر کرتے ہوئے وزیر اعظم عمران خان نے اسامہ بن لادن کا ذکر کیا تو ساتھ لفظ شہید استعمال کیا جس کے بعد وزیر اعظم عمران خان پر عالمی میڈیا کی جانب سے شدید تنقید کی جانے لگی ہے۔

تفصیلات کے مطابق عمران خان نے قومی اسمبلی میں تقریر کرتے ہوئے یہ الفاظ کہے کہ ” پاکستان کے لئے یہ باعث شرمندگی تھا کہ امریکی پاکستان کی حدود میں داخل ہو کر اسامہ بن لادن کو مار کر شہید کر گئے“۔ وزیر اعظم کے یہ الفاظ کہنے تھے کہ اپنے کیا تو پیگانے کیا سب کی جانب سے تنقید کے نشتر پھینکے جانے لگے۔ 

بھارتی اخبار انڈیا ٹوڈے نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ پاکستانی وزیر اعظم نے اسامہ بن لادن کو دہشتگرد ماننے سے انکار کر دیا ہے۔ انڈیا ٹوڈے نے اپنی رپورٹ میں یہ بات بھی لکھی ہے کہ یہ بات بھی قابل غور ہے کہ سابق امریکی صدر نے بھی کہا تھا کہ اسامہ بن لادن صرف برطانیہ کے لئے دہشتگرد ہے جبکہ دوسروں کے لئے وہ ایک آزادی کی جنگ لڑنے والے سپاہی کی حیثیت رکھتا ہے۔ 

صرف یہی نہیں بلکہ اپوزیشن جماعتوں کے رہنماؤں کی جانب سے بھی وزیر اعظم کے اس بیان پر تنقید کی گئی ہے۔ مسلم لیگ ن کے رہنما خواجہ آصف نے قومی اسمبلی میں اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ وہ شخص جو ہماری سرزمین پر دہشتگردی لانے کا مرتکب ہوا ہمارے وزیر اعظم نے اس کو شہید بول دیا۔ انہوں نے کہا کہ اسامہ بن لادن مکمل طور پر دہشتگرد ہے. دوسری جانب بلاول بھٹو زرداری کے ترجمان سینیٹر مصطفی نواز کھوکھر نے عمران خان کو قومی سلامتی کے لئے خطرہ قرار فیا اور اس کی وجہ کے طور پر کہا کہ عمران خان نے اسامہ بن لادن کو شہید کہا ہے۔ 

مزید برآں وزیر اعظم پاکستان عمران خان کی جماعت کے رہنما فواد چوہدری سے جب اس متعلق سوال کیا گیا تو انہوں نے کہا کہ وزیر اعظم کا اسامہ بن لادن کو شہید قرار دینا محض زبان کا پھسلنا ہے اس سے آگے اس میں کچھ صداقت نہیں ہے۔ جبکہ مسلم لیگ ن کے رہنما رانا ثناء اللہ نے کہا کہ عمران خان کے اسامہ بن لادن کو شہید قرار دینے والی بات کو یہیں پہ ختم کر دینا چاہیے۔ انہوں نے مزید کہا کہ وزیر اعظم کی گزشتہ روز قومی اسمبلی میں ہونے وای تقریر پہلی تقریروں سے کافی مختلف تھی۔ اس تقریر میں وزیر اعظم نے اپوزیشن کے لئے چور ڈاکو کے الفاظ استعمال نہیں کئے ہیں۔

جاویریہ حارث

جاویریہ حارث اردو خبر میں پاکستان میں مقیم مصنف اور سابق ایڈیٹر ہیں۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *