مصنف کے بارے میں

صفحۂ اول

تبصرے

    طیارہ حادثے میں نئے انکشافات، پی آئی اے اور پائلٹس آمنے سامنے

    مئی 27 2020: (جنرل رپورٹر) پی آئی اے طیارہ حادثہ کی تحقیقات میں نئے انکشافات کا سامنا ہوا ہے جبکہ پی آئی اے اور پاکستان ائیرلائن پائلٹس ایسوسی ایشن پالیا نے ایک دوسرے پر الزامات کی بارش کر دی ہے۔

    تفصیلات کے مطابق ائیر ٹریفک اینڈ اپروچ کنٹرولر نے کہا ہے کہ حادثے کا شکار ہونے والے طیارے کے پائلٹ نے مسلسل دی جانے والی ہدایات پر عمل نہیں کیا جس کے باعث پی آئی اے کا طیارہ حادثے کا شکار ہو گیا۔ جبکہ پاکستان ائیرلائن پائلٹس ایسوسی ایشن پالیا نے کہا ہے کہ اصل کرداروں کو بچانے کی ناکام کوشش کے سلسلے میں گھناونے الزامات لگائے جا رہے ہیں اور ہونے والی تحقیقات کو غلط رخ دیا جا رہا ہے۔

    پالیا نے وزیر اعظم اور مشیر ہوا بازی سے مطالبہ کیا ہے کہ تحقیقات کے مکمل ہونے تک پی آئی اے کی موجودہ انتظامیہ کو غیر فعال کریں اور انٹرنیشنل ایوی ایشن ماہرین کی زیر نگرانی تحقیقات کا سلسلہ جاری کیا جائے۔

    ائیر ٹریفک کنٹرولر اور اپروچ کنٹرولر نے طیارہ حادثہ تحقیقاتی ٹیم کو دئیے گئے تحریری جواب میں لکھا ہے کہ کپتان نے ان کی ہدایات کو مسلسل نظر انداز کیا اور 10 ناٹیکل میل کے زریعے دی گئی ہدایات پر بھی عمل نا کیا جس کی وجہ سے یہ افسوسناک حادثہ پیش آیا۔

    مزید کہا کہ کراچی ائیرپورٹ پر جہاز کی لینڈنگ سے قبل اونچائی 1800 فٹ تک ہونی چاہیے تھی جبکہ کپتان 3000 فٹ کی بلندی پر جہاز اڑا رہا تھا۔ کپتان کو ہدایات دینے پر کپتان نے کہا کہ وہ کینڈبگ سے قبل صورتحال کنٹرول کر لے گا جبکہ وہ ایسا نا کر سکا۔

    دئیے گئے جواب میں مزید کہا گیا کہ جہاز کا کپتان لینڈنگ کے وقت سپیڈ اور اونچائی کنٹرول کرنے کے وقت لینڈنگ گیر کھولنا بھول گیا تھا سو جب کپتان نے جہاز کو لینڈنگ کروائی تو دونوں انجن رن وے سے ٹکرائے اور تین بار رگڑ بھی کھائی جس کے باعث چنگاریاں نکلیں لیکن کپتان نے جہاز کو دوبارہ ٹیک آف کر دیا۔

    دوسری جانب پالیا نے کہا کہ تحقیقات میں غلط ملط چیزوں کو بیان کر کے اصل کرداروں کو بچانے کی ناکام کوشش کی جا رہی ہے۔ تحقیقات ہونے تک پی آئی اے کی موجودہ انتظامیہ کو غیر فعال کیا جائے۔

    پالیا تنظیم کے ترجمان نے سوالات اٹھاتے ہوئے کہا ہے کہ انجن پر رگڑ لگی تو کیپٹن کو بروقت اطلاع کیوں نا دی گئی ؟ جب ایمرجنسی لینڈنگ کی ضرورت تھی تو لمبا راستہ کیوں بتایا گیا ؟ انہوں نے کہا کہ شفاف تحقیقات ہونی چاہیے تا کہ اصل کردار سامنے آ سکیں۔

    ترجمان پالیا نے کہا کہ ان افسردہ حالات میں کوئی نیا پنڈورا باکس نہیں کھولنا چاہتے۔ حادثے کی تحقیقات کو غلط رنگ دیا جا رہا ہے۔

    جاویریہ حارث

    جاویریہ حارث اردو خبر میں پاکستان میں مقیم مصنف اور سابق ایڈیٹر ہیں۔

    سبسکرائب
    کو مطلع کریں
    guest
    0 Comments
    Inline Feedbacks
    View all comments
    0
    آپ اس متعلق کیا کہتے ہیں؟ اپنی رائے کمنٹ کریںx
    ()
    x