شہباز شریف کے پاس پیسے مانگنے کے علاوہ کوئی پلان نہیں ہے، عمران خان

انتخابات میں تاخیر سے پاکستان کو نقصان ہوگا

پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے چیئرمین اور سابق وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ انتخابات میں تاخیر سے پاکستان کو نقصان ہوگا۔ شہباز شریف کے پاس سوائے پیسے مانگنے کے کوئی پلان نہیں۔ 

 سابق وزیراعظم نے عوام سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ہماری معیشت تیزی سے نیچے جارہی ہے، معیشت جس سمت جارہی ہے اس سے ڈرتا ہوں اور جب تک سیاسی استحکام نہیں ہوگا، معیشت مستحکم نہیں ہوسکتی۔

موجودہ حکومت کی کوئی وقعت نہیں

 موجودہ حکومت کی پاکستان میں اور باہر کوئی وقعت نہیں۔ حکومت نے کہا تھا کہ انٹرنیشنل مانیٹری فنڈ (آئی ایم ایف) کی قسط کے بعد حالات بہتر ہوں گے، اس وقت ملک میں تاریخی مہنگائی ہے، آئی ایم ایف کی تمام شرائط مانیں، روپے یہ مسلسل گر رہا ہے، انتخابات میں تاخیر سے پاکستان کو نقصان ہوگا۔

یہ بھی پڑھیں | شہباز گل کو ضمانت مل گئی

یہ بھی پڑھیں | اسلام آباد ہائی کورٹ نے غداری کیس میں شہباز گل کی درخواست ضمانت منظور کر لی 

 انہوں نے کہا کہ پاکستان کی تاریخ میں تحریک انصاف جیسی مقبول جماعت نہیں ہے۔ اگر کوئی جماعت پورے پاکستان کو اکٹھا کر سکتی ہے تو وہ تحریک انصاف ہے۔ شہباز شریف کو ایف آئی اے کیس میں 60 فیصد سزا ہونے والی تھی۔ کابینہ ضمانت پر ہے، وہ صرف اپنے کیسز معاف کر رہے ہیں، انہیں پاکستان کی کوئی فکر نہیں، وہ شہباز شریف کو آئن سٹائن سمجھ رہے تھے، وہ آئیں گے تو سب ٹھیک کر دیں گے۔ 

سال 2018 میں جب ہم نے حکومت سنبھالی تو تاریخی بیرونی خسارہ تھا، تاریخ کا سب سے بڑا بیرونی خسارہ 20 ارب ڈالر تھا۔ اپریل میں جب ہماری حکومت کا تختہ الٹا گیا تو ان کا بیرونی خسارہ 16 ارب ڈالر تھا۔ عدم اعتماد سے پہلے یہ 16.2 بلین تھا۔ ڈالر کے زرمبادلہ کے ذخائر تھے، آج آئی ایم ایف معاہدے کے باوجود زرمبادلہ کے ذخائر 8.8 ارب ڈالر ہیں۔ 

شہباز شریف کے پاس پیسے مانگنے کے علاوہ کوئی پلان نہیں

 اس ایکسپورٹ سے 24 ارب ڈالر رہ گئے، ہم اسے 32 ارب ڈالر تک لے گئے، صدی کا سب سے بڑا کورونا بحران ہمارے دور میں آیا، دنیا نے کورونا کے دوران ہماری پالیسی کو سراہا، میں نے کورونا کے دوران ملک میں سب سے زیادہ روزگار فراہم کیا۔ کورونا کے دوران حکومت ہوتی تو پورے ملک کو لاک ڈاؤن کر دیتے۔ 

شہباز شریف کے پاس پیسے مانگنے کے سوا کوئی پلان نہیں۔

حرمین رضا

جاویریہ حارث اردو خبر میں پاکستان میں مقیم مصنف اور سابق ایڈیٹر ہیں۔