شعیب اختر کو ساڑھے 4 کڑوڑ کا نوٹس

مئی 01 2020: (جنرل رپورٹر) پاکستانی کرکٹر شعیب اختر کو توہین وکلاء کے جرم میں ساڑھے چار کڑوڑ کا قانونی نوٹس بھیج دیا گیا ہے

تفصیلات کے مطابق قانونی نوٹس کے متن میں تحریر کیا گیا ہے کہ  شعیب اختر نے اپنے ایک بیان میں وکلاء اور ان کے شعبے کی تضحیک کی ہے جس پر ساڑھے 4 کڑوڑ کا نوٹس تھما دیا گیا-
زرائع کے مطابق ایڈووکیٹ یاور ذوالفقار نے اپنے وکیل ندیم سرور کی وساطت سے یہ نوٹس بھجوایا ہے جس میں وکلاء کی تضحیک کرنے کا الزام لگایا ہے

نوٹس میں لکھا گیا کہ شعیب اختر نے اہبے اپنے بیان میں وکلاء اور ان کی برادری کے لئے غلط الفاظ استعمال کئے ہیں جو کہ وکلاء برادری کی توہین ہے- نوٹس میں کہا گیا کہ شعیب اختر کا یہ بیان کسی صورت قابل قبول نہیں ہے

شعیب اختر کو بھیجے گئے قانونی نوٹس میں مزید لکھا گیا کہ شعیب اختر کو چودہ روز کے اندر وکلاء برادری سے غیر مشروط معافی مانگنی ہو گی- اگر وہ وکلاء برادری سے معافی نہیں مانگتے تو ان کے خلاف عدالت میں بھی کیس دائر کر دیا جائے گا

دوسری جانب پی سی بی نے بھی شعیب اختر کے بیان کی مذمت کی ہے اور کہا ہے کہ ان کی زبان کے الفاظ کا چناؤ غیر مناسب اور ہتک آمیز ہے جسے کسی بھی مہذب معاشرے میں قبول نہیں کیا جا سکتا

پہ سی بی کے لیگل ایڈوائزر تفضل رضوی نے بھی سابق فاسٹ بولر شعیب اختر پر 10 کڑوڑ کے ہرجانے کا دعوی کیا ہے-انہوں نے کہا کہ شعیب اختر نے سوشل میڈیا کو استعمال کرتے ہوئے میرے خلاف نازیبا باتیں کی ہیں- انہوں نے کہا کہ میں سائبر کرائم ایکٹ کے تحت بھی کاروائی کروں گا جس کے لئے ایک آئی اے کو درخواست دے گئی ہے

تفضل رضوی نے کہا کہ چونکہ بیرون ملک سے بھی لوگوں نے شعیب اختر کے میرے خلاف غلط ریمارکس کو دیکھا اور سنا ہے لہذا بیرون ملک سے بھی کاروائی کروں گا

پاکستان بار کونسل کے وائس چئیرمین نے بھی اہنے بیان میں کہا کہ شعیب اختر کو ایسا بیان نہیں دینا چاہیے تھا- تفضل رضوی پی سی بی کے لیگل ایڈوائزر ہیں- اعلامیے میں کہا کہ بار کونسل ایسے مضحکہ خیز بیانات کی اجازت نہیں دے سکتی شعیب اختر کو محتاط رہنا چاہیے

یاد رہے کہ گزشتہ دنوں شعیب اختر نے عمر اکمل کو ملنے والی سزا پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا تھا تین سال کی سزا بیت سخت ہے- تفضل رضوی تمام کھلاڑیوں کے کیسز الجھاتے ہیں اور ماضی میں مجھ سے بھی ہار چکے ہیں

شئر کریں

جاویریہ حارث

جاویریہ حارث اردو خبر میں پاکستان میں مقیم مصنف اور سابق ایڈیٹر ہیں۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *