دعا زہرہ کیس: والدین کی پریس کانفرنس کم عمری کی دستاویزات دکھا دیں

لاپتہ دعا زہرہ کے کیس میں نیا موڑ آ گیا ہے۔

تفصیلات کے مطابق دعا زہرہ کے والدین نے لاہور میں اپنی بیٹی کے نکاح اور عمر کے اٹھارہ سال ہونے کی تردید کر دی ہے 

 پریس کانفرنس میں دعا زہرہ کے والد نے کہا کہ انہیں ان کے نکاح نامہ کے ساتھ ان کی بیٹی کی تصویر کے بارے میں میڈیا کے ذریعے معلوم ہوا لیکن انہیں ابھی تک نکاح نامہ کی کوئی کاپی نہیں ملی۔

 انہوں نے دعا زہرہ کی شادی کے لیے قانونی عمر کی میڈیا رپورٹس کی بھی تردید کر دی۔ انہوں نے مزید کہا کہ ان کی بیٹی چار ماہ کے بعد 14 سال کی ہو جائے گی جب کہ شادی کے مبینہ دستاویز (نکاح نامہ) میں اس کی عمر 18 سال بتائی گئی ہے۔ 

 دعا کے والد نے بےفارم دکھاتے ہوئے بتایا کہ اس کی بیٹی کی عمر 18 سال نہیں 14 سال ہے۔

 پولیس کا کہنا ہے کہ لڑکی نے پنجاب کے دارالحکومت میں ظہیر احمد نامی شخص سے شادی کر لی ہے۔ دعا زہرہ کے مبینہ نکاح نامے میں اصغر علی اور شبیر احمد کا بطور گواہ ذکر کیا گیا ہے۔

یاد رہے کہ دعا زہرا نے اپنی حالیہ ویڈیو میں کہا ہے کہ انہوں نے اپنی مرضی سے کورٹ میرج کی ہے جبکہ ان کے والد نے ان کی عمر 14 سال غلط بتائی ہے۔

حرمین رضا

جاویریہ حارث اردو خبر میں پاکستان میں مقیم مصنف اور سابق ایڈیٹر ہیں۔