مصنف کے بارے میں

صفحۂ اول

تیل اور گیس کی تلاش کے لئے حکومت کی جانب سے پانچ لائسنس جاری

حکومت نے پیر کو سرکاری آئل اینڈ گیس ڈویلپمنٹ کمپنی (او جی ڈی سی) کو پنجاب ، خیبرپختونخوا اور سندھ صوبوں میں تین سالوں میں تقریبا 13.32 ملین ڈالر کی سرمایہ کاری کے ساتھ ایکسپلوریشن کے لیے پانچ لائسنس جاری کئے ہیِں۔ 

پٹرولیم رعایتی معاہدے (پی سی اے) اور ایکسپلوریشن لائسنس (ای ایل) میں بلاک نمبر 3372-26 (ہزرو) ، بلاک نمبر 2972-7 (وہاڑی) ، بلاک نمبر 2972-8 (ستلج) ، بلاک نمبر 2668-23 (کھیواری ایسٹ) شامل ہیں۔ اور بلاک نمبر 3471-1 (نوشہرہ)۔ ان ای ایلس اور پی سی ایز پر حکومت کی جانب سے سیکرٹری پٹرولیم ڈویژن ڈاکٹر ارشد محمود اور ڈائریکٹر جنرل پٹرولیم مراعات عبدالجبار میمن نے دستخط کیے جبکہ او جی ڈی سی کی نمائندگی اس کے منیجنگ ڈائریکٹر شاہد سلیم خان نے کی۔

یہ بھی پڑھیں | میسی نے بارسلونا کلب کو الوداع کہا۔

تفصیلات کے مطابق 653.74 مربع کلومیٹر پر محیط ہزرو بلاک پنجاب اور خیبر پختونخوا کے اٹک ، صوابی اور ہری پور اضلاع میں واقع ہے۔ وہاڑی بلاک جس کا رقبہ 2،487.28 مربع کلومیٹر ہے پنجاب کے بہاولپور ، وہاڑی اور لودھراں اضلاع میں واقع ہے۔ ستلج بلاک 2،312.56 مربع کلومیٹر پر محیط ہے جو بہاولپور ، بہاولنگر ، وہاڑی اور خانیوال اضلاع میں واقع ہے۔ کھیواری ایسٹ کا رقبہ 1،451.53 مربع کلومیٹر سندھ کے ضلع خیرپور میں واقع ہے جبکہ نوشہرہ بلاک 1،711.06 مربع کلومیٹر کے رقبے پر محیط چارسدہ ، مردان ، صوابی اور نوشہرہ اضلاع میں واقع ہے ان بلاکس کے لیے کم از کم کام کی وابستگی تین سال کی مدت میں 13.32 ملین ڈالر ہے۔ 

کمپنی ہر بلاک میں کم از کم  30،000 ڈالر ہر سال سوشل ویلفیئر سکیموں پر خرچ کرنے کی پابند ہے۔ ان پانچ بلاکس کے حوالے سے سالانہ سماجی بہبود کی ذمہ داری  150،000 ڈالر ہے۔ او جی ڈی سی ایک پبلک لمیٹڈ کمپنی ہے جو گزشتہ پانچ دہائیوں سے ملک میں ریسرچ اور پروڈکشن کی سرگرمیوں میں مصروف ہے۔ اس میں تیل کا سب سے بڑا حصہ 41 فیصد اور گیس ملک کے کل ذخائر کا 36 فیصد ہے۔

حرمین رضا

جاویریہ حارث اردو خبر میں پاکستان میں مقیم مصنف اور سابق ایڈیٹر ہیں۔