تحریک عدم اعتماد: ن لیگ نے حکومتی ڈیل کی آفر مسترد کر دی

 مسلم لیگ (ن) کے سینئر رہنما رانا ثناء اللہ نے پیر کو وزیراعظم عمران خان کے خلاف اپوزیشن کی تحریک عدم اعتماد سے متعلق حکومتی مذاکراتی پیشکش کو واضح طور پر مسترد کردیا ہے۔

 اتوار کو وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات فواد چوہدری نے وزیراعظم عمران خان کے خلاف تحریک عدم اعتماد پر اپوزیشن سے ڈیل بڑھا دی ہے۔ اپنے بیان میں وزیر اطلاعات نے کہا کہ اگر اپوزیشن تحریک عدم اعتماد واپس لیتی ہے تو دیکھتے ہیں کہ بدلے میں انہیں کیا دیا جا سکتا ہے۔ 

 نجی نیوز کے پروگرام ’آج شاہ زیب خانزادہ کے ساتھ‘ میں گفتگو کرتے ہوئے ثناء اللہ نے کہا کہ تحریک عدم اعتماد اسی صورت میں واپس لے سکتے ہیں جب وزیراعظم عمران خان استعفیٰ دینے کا اعلان کریں۔ 

 مسلم لیگ (ن) کے رہنما نے کہا کہ ہماری تحریک عدم اعتماد اسمبلیوں کو تحلیل کرنے کے بارے میں نہیں ہے، بلکہ اس نااہل حکومت کو ہٹانے کے لیے ہے، جس نے معیشت کو تباہ کیا اور عوام کے تئیں بے حسی کا مظاہرہ کیا ہے۔

مزید برآں، رانا ثناء اللہ نے تحریک عدم اعتماد کے موضوع پر حکومت کے ساتھ مذاکرات کے کسی بھی آپشن کو واضح طور پر مسترد کردیا۔ 

انہوں نے مزید کہا کہ حکومت نے گزشتہ 4 سالوں میں اپوزیشن سے ہاتھ ملانے کی زحمت تک نہیں کی ہے اور اس لیے اب حکومت سے کوئی بات چیت نہیں ہوگی۔

 ایک سوال کے جواب میں کہ فواد چوہدری نے کہا ہے کہ حکومت وزیراعظم کے خلاف تحریک عدم اعتماد واپس لینے کے بدلے میں اپوزیشن کو کچھ پیش کر سکتی ہے؛ مسلم لیگ (ن) کے رہنما نے کہا کہ اپوزیشن کسی بھی قیمت پر وزیراعظم عمران خان کے خلاف تحریک عدم اعتماد واپس نہیں لے گی۔

یہ بھی پڑھیں | ثناء جاوید تنازعے کے پیچھے اصل وجہ سامنے آ گئی   

 انہوں نے کہا کہ صرف ایک شرط پر ہم عدم اعتماد کی تحریک واپس لے سکتے ہیں اگر عمران خان استعفیٰ دینے کا اعلان کریں۔

 انہوں نے مزید کہا کہ ان کے پاس معلومات ہیں کہ ڈی چوک پر حکومت کے جلسے کا بنیادی مقصد قانون سازوں کو اسمبلی میں ووٹ ڈالنے سے روکنا نہیں تھا بلکہ وزیر اعظم عمران خان جلسے میں اپنے استعفیٰ کا اعلان کریں گے۔ 

رانا ثناء اللہ نے مزید کہا کہ ہمارے پاس حکومت گرانے کے لیے مطلوبہ تعداد موجود ہے، تاہم حکومتی اتحادیوں سے مذاکرات مثبت سمت میں جا رہے ہیں۔ 

 مسلم لیگ (ن) کے رہنما نے حکومت کو خبردار کیا کہ وہ ڈی چوک پر دھرنا نہ دے کیونکہ ان کی پارٹی نے بھی بڑے پیمانے پر پاور شو کا مطالبہ کیا ہے۔ 

 انہوں نے کہا کہ اگر حکومت ووٹنگ سے ایک دن پہلے جلسہ کرنا چاہتی ہے تو وہ ضرور کر سکتی ہے لیکن اگر حکومت دھرنے کا اعلان کرتی ہے تو ہم انہیں نہیں بخشیں گے۔ 

 رانا ثناء اللہ کا مزید کہنا تھا کہ انہوں نے پارٹی کارکنوں کو ڈی چوک پر جمع ہونے کی بھی دعوت دی ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ ’ہماری پارٹی کے کارکنان اور حامی حکمران جماعت کو سزا دیں گے کیونکہ انہیں فرار کا راستہ نہیں ملے گا۔

حرمین رضا

جاویریہ حارث اردو خبر میں پاکستان میں مقیم مصنف اور سابق ایڈیٹر ہیں۔