اگر اسٹیبلشمنٹ غیر جانبدار رہے تو لانگ مارچ کامیاب ہو گا، بلاول بھٹو

بلاول بھٹو نے کہا ہے کہ پی پی پی کو اسٹیبلشمنٹ کے ساتھ تعلقات میں کوئی دلچسپی نہیں ہے اور وہ وزیر اعظم کو ہٹانا چاہتے ہیں۔ 

 پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے منگل کے روز پیش گوئی کی ہے کہ ان کی پارٹی کا اسلام آباد پر 27 فروری کو ہونے والا لانگ مارچ کامیاب ہو جائے گا اگر ملکی سکیورٹی اسٹیبلشمنٹ غیر جانبدار رہی۔

 لاہور میں صحافیوں سے بات کرتے ہوئے، انہوں نے پی پی پی کے اسٹیبلشمنٹ کے ساتھ تعلقات بڑھانے کی میڈیا رپورٹس کو مسترد کر دیا اور دعویٰ کیا کہ ان کی پارٹی نے کبھی اس کو فالو نہیں کیا۔ انہوں نے کہا کہ ہم اسٹیبلشمنٹ کے ساتھ تعلقات قائم کرنے میں کبھی دلچسپی نہیں رکھتے تھے اور نا رکھیں گے۔

 انہوں نے مزید کہا کہ پوری قوم “منتخب” حکومت سے نجات چاہتی ہے اور آزادانہ اور منصفانہ انتخابات ہی اس کا واحد حل ہیں۔ 

 اس بات پر زور دیتے ہوئے کہ پی پی پی نے “ہمیشہ” پارلیمانی بالادستی اور جمہوریت کے لیے کام کیا ہے، انہوں نے کہا کہ وہ مسلط شدہ سیاست پر یقین نہیں رکھتے۔ ہم لمبے دھرنے نہیں دیں گے اور اداروں پر حملہ نہیں کریں گے۔ اگر ہم حکومت کو ہٹانا چاہیں گے تو آئین کے مطابق کریں گے۔ 

یہ بھی پڑھیں | بلاول بھٹو نے حکومت کو لانگ مارچ سے متعلق خبردار کر دیا

 پی پی پی کے چیئرمین نے خبردار کیا کہ اگر اپوزیشن جماعتوں نے پی ٹی آئی کی زیرقیادت حکومت کے خلاف کوئی ’’انتہائی‘‘ قدم اٹھایا تو اس سے بحران جیسی صورتحال پیدا ہوسکتی ہے۔

  ایک سوال کے جواب میں بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ انہیں سینیٹ میں قائد حزب اختلاف یوسف رضا گیلانی پر مکمل اعتماد ہے۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ جب سے لانگ مارچ کا اعلان ہوا، کچھ عناصر ہماری [پی پی پی] تحریک کو خراب کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ انہوں نے وزیراعظم کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ لانگ مارچ میں لاکھوں لوگوں کی شرکت عمران خان کی مقبولیت کا اصل چہرہ دکھائے گی۔ انہوں نے کہا کہ حکومت نے لانگ مارچ کے خوف سے پیپلز پارٹی اور اس کے عوامی نمائندوں کے خلاف جھوٹے پروپیگنڈے کا سہارا لیا ہے لیکن ہم اس سے ڈرنے والے نہیں اور پوری قوت سے سازشوں کا مقابلہ کریں گے۔ 

اس ہفتے کے شروع میں، یوسف رضا گیلانی نے اعلان کیا تھا کہ انہوں نے سینیٹ میں قائد حزب اختلاف کے طور پر اپنا استعفیٰ پی پی پی کی قیادت کو بھجوا دیا ہے جس کی وجہ ان کی سٹیٹ بینک بل کے دوران عدم موجودگی اور مختلف افواہیں تھیں۔

حرمین رضا

جاویریہ حارث اردو خبر میں پاکستان میں مقیم مصنف اور سابق ایڈیٹر ہیں۔