مصنف کے بارے میں

صفحۂ اول

انٹرنیشنل کرکٹرز کو واپس لانے کے لئے کئی راتیں نہیں سویا، وسیم خان

  پاکستان  پاکستان

پاکستان کرکٹ بورڈ (پی سی بی) کے سابق چیف ایگزیکٹو وسیم خان نے اپنے عہدے سے استعفی دینے کے بعد ایک نوٹ لکھا ہے جس میں کہا گیا ہے کہ وہ پاکستان کے عالمی امیج کو بہتر بنانے کے عزم کے ساتھ ملک آئے اور بین الاقوامی کرکٹ لانے کے لیے سخت محنت کی۔ 

تفصیلات کے مطابق وسیم خان نے گزشتہ ماہ پی سی بی کے چیئرمین رمیز راجہ سے اختلافات پیدا ہونے کے بعد پی سی بی سے استعفیٰ دے دیا۔

 وہ 2019 میں بورڈ میں شامل ہوئے اور ان کا معاہدہ 2022 میں ختم ہونے والا تھا۔

یہ بھی پڑھیں | روپیہ دو سال کی بلند ترین قیمت پر آ گیا  

 لنکڈ ان پر ایک پوسٹ میں ، وسیم خان نے کہا  کہ بدقسمتی سے پاکستان کرکٹ بورڈ میں میرا وقت ختم ہو گیا ہے۔ ایک برطانوی پاکستانی اور ایک سابق پیشہ ور کرکٹر کی حیثیت سے ، میں نے صرف 3 سال قبل پاکستان آنے کا عزم کیا  تاکہ میں پی سی بی اور ملک کے عالمی امیج کو بہتر بنانے میں اپنا کردار ادا کر سکوں۔

 میرا مقصد 220 ملین افراد پر مشتمل کرکٹ کی دیوانی قوم کی کھیل کی بہتری میں حصہ ڈالنا تھا۔ پی سی بی میں اپنے دور میں درپیش چیلنجوں پر روشنی ڈالتے ہوئے وسیم خان نے کہا کہ بین الاقوامی کرکٹ کو واپس لانے کے لئے کئی راتوں کو نہیں سویا۔

  پی سی بی کے سابق باس وسیم خان نے کہا کہ انہوں نے  وقت پر فیصلے کئے اور کچھ فیصلے غلط ہو گئے۔

 انہوں نے کہا کہ میں شکر گزار ہوں کہ میرے تجربات نے مجھے نقطہ نظر کا فن سکھایا اور سیاسی زہن کی ترقی میں میری مدد کی۔ 

 وسیم خان نے کہا کہ وہ کرکٹ کی تاریخ میں ایک چھوٹا سا کردار ادا کرنے پر فخر محسوس کرتے ہیں۔ کچھ ہفتوں کے لئے جب میں لاہور سے واپس انگلینڈ واپس جا رہا ہوں ، میں جانتا ہوں کہ میں پاکستان کے شائقین کے لیے شکریہ اور محبت کے جذبات کے علاوہ کچھ محسوس نہیں کروں گا۔

حرمین رضا

جاویریہ حارث اردو خبر میں پاکستان میں مقیم مصنف اور سابق ایڈیٹر ہیں۔