القاعدہ تنظیم کے سربراہ انتقال کر گئے، عرب میڈیا

عرب میڈیا کی جانب سے گزشتہ روز جمعہ کو رپورٹ کیا گیا کہ القاعدہ کے سربراہ اور مصری شہری ایمن الظواہری فطری وجوہات کی بناء پر افغانستان میں انتقال کر گئے ہیں۔

 یہ خبر سوشل میڈیا پر یہ قیاس آرائیاں کرنے کے چند دن بعد سامنے آئی کہ القاعدہ کے سربراہ کا انتقال ہوگیا ہے۔ 

تفصیلات کے مطابق ایمن الظواہری کو آخری بار ایک ویڈیو پیغام میں دیکھا گیا تھا جسے عسکریت پسند گروپ نے امریکہ میں نائن الیون حملوں کی 19 ویں سالگرہ کے موقع پر جاری کیا تھا۔ 

عرب نیوز نے اپنی رپورٹ میں بتایا ہے کہ اس نے پاکستان اور افغانستان میں کم سے کم چار سیکیورٹی ذرائع سے بات کی جنہوں نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر القاعدہ سربراہ کی موت کی تصدیق کی۔

یہ بھی پڑھیں | تحریک لبیک پاکستان کے سربراہ وفات پا گئے، نماز جنازہ کا اعلان کر دیا گیا

 القاعدہ کے ایک ترجمان نے بتایا کہ ایمن الظواہری کا گذشتہ ہفتے غزنی میں انتقال ہوگیا تھا۔ وہ دمہ کی وجہ سے چل بسے کیونکہ ان کی جانب سے کوئی باقاعدہ علاج نہیں کیا گیا۔ 

ایک پاکستانی عہدیدار کا عرب نیوز نے حوالہ دیتے ہوئے کہا ہے کہ ان کا خیال ہے کہ ایمن الظواہری کا قدرتی وجوہات پر انتقال ہو گیا ہے۔ 

افغانستان میں القاعدہ کے قریبی ایک اور ذرائع نے بتایا کہ اس ماہ ایمن کی موت ہوگئی تھی اور کچھ پیروکاروں نے ان کی نماز جنازہ پڑھائی تھی۔ انہوں نے یہ نہیں بتایا کہ نماز جنازہ غیر حاضری میں ادا کی گئی تھی یا لاش کی موجودگی میں۔ 

 عرب نیوز نے بتایا کہ اس نے ایک اور پاکستانی عہدیدار سے بات کی ہے جس نے کہا ہے کہ ایمن الظواہری افغانستان میں ہے اور وہ “انتہائی بیمار” تھا لیکن انہوں نے کہا کہ وہ اس بات سے واقف نہیں ہے کہ القاعدہ کا رہنما مر گیا تھا یا نہیں۔ میرے علم میں وہ انتہائی بیمار تھا اور گردے کی خرابی کا مسئلہ بھی تھا۔ 

امریکہ نے کہا ہے کہ اسے الظواہری کی موت کی خبر موصول ہوئی ہے لیکن ابھی تک اس کی تصدیق نہیں کی گئی ہے۔ 

یاد رہے  2011 میں پاکستان میں امریکی کارروائی میں اسامہ بن لادن کے قتل سے یہ گروپ الظواہری کے ہاتھوں میں چلا گیا ، جو مصر کے سابق جہاد کار اور القاعدہ کے کلیدی نظریے کے مالک تھے ۔

شئر کریں

جاویریہ حارث

جاویریہ حارث اردو خبر میں پاکستان میں مقیم مصنف اور سابق ایڈیٹر ہیں۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *