اقرار الحسن پر ٹیم سمیت وفاقی ادارے کے اہلکاروں کا تشدد

 انٹیلی جنس بیورو (آئی بی) نے ٹیلی ویژن پریزینٹر اور صحافی اقرار الحسن اور ان کی ٹیم پر حملہ اور تشدد کے الزام میں اہلکاروں کو معطل کردیا ہے۔

 آئی بی سندھ کے صوبائی ہیڈ کوارٹرز کی جانب سے جاری کردہ نوٹیفکیشن کے مطابق، ملوث پانچ اہلکاروں کو صحافی اور ان کی ٹیم کے ساتھ بدسلوکی پر سرکاری ملازمین (کارکردگی اور تادیبی) رولز کے قاعدہ 5 (1) اور (2) کے تحت معطل کر دیا گیا ہے۔ 

 آئی بی حکام نے مبینہ طور پر ایک آئی بی انسپکٹر کی ویڈیو ثبوت کے ساتھ کرپشن کو بے نقاب کرنے پر اقرار الحسن کو تشدد کا نشانہ بنایا۔ 

کرپشن واضح کرنے کے لیے اقرار الحسن اور ان کی ٹیم اپنے مقبول شو سرعام کے لیے ایک سیگمنٹ کی شوٹنگ کر رہی تھی جو کہ ایک تفتیشی کرائم ٹی وی شو ہے۔ ٹیم نے ایک افسر کو رشوت لیتے ہوئے پکڑا اور کرپٹ افسر کی شکایت کرنے آئی بی کے ڈائریکٹر کے پاس گئی۔ تاہم آئی بی کے اہلکاروں نے ٹیم پر حملہ کر دیا۔

یہ بھی پڑھیں | مانتا ہوں مہنگائی ہے،مشکل وقت ہے؛ وزیر اعظم عمران خان نے تسلیم کر لیا 

 صحافی کو فوری طور پر طبی امداد کے لیے عباسی شہید اسپتال منتقل کیا گیا کیونکہ وہ زخمی ہوئے اور اس کا کندھا بھی ٹوٹ گیا۔

 خوش قسمتی سے طبی امداد کے بعد ڈاکٹروں کا کہنا ہے کہ وہ خطرے سے باہر ہے۔ 

 تفصیلات کے مطابق خود اقرار الحسن نے بتایا کہ اہلکاروں نے انہیں اور ان کی ٹیم کو برہنہ کردیا۔ مزید برآں، انہوں نے انہیں 3 گھنٹے تک حراست میں رکھا، انہیں مارا پیٹا اور بجلی کے جھٹکے دے کر تشدد کا نشانہ بنایا۔ 

اقرار الحسن نے یہ انکشاف بھی کیا کہ اہلکاروں نے ان پر تشدد کرتے ہوئے ان کی ویڈیوز بھی بنائیں۔ اس کے بعد انہوں نے دھمکی دی کہ اگر انہوں نے اہلکاروں کو بے نقاب کیا تو وہ ویڈیو لیک کر دیں گے۔

 اس واقعے پر ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے اقرار الحسن نے کہا کہ وہ شدید صدمے سے گزر رہے ہیں۔ تاہم، انہوں نے کہا کہ اس واقعے نے خوف پیدا کرنے کے بجائے اسے مزید ثابت قدم بنا دیا۔

حرمین رضا

جاویریہ حارث اردو خبر میں پاکستان میں مقیم مصنف اور سابق ایڈیٹر ہیں۔