سندھ حکومت نے میڈیکل اینڈ ڈینٹل کالج ایڈمیشن ٹیسٹ کے نتائج پر اٹھنے والے ایم ڈی کیٹ 2026 تنازع اور پیپر لیک کے تمام الزامات کو مکمل طور پر مسترد کر دیا ہے۔ محکمہ صحت نے پاکستان میڈیکل اینڈ ڈینٹل کونسل (PM&DC) کو بھیجے گئے ایک باضابطہ خط میں واضح کیا ہے کہ امتحانی نتائج اور ضلعی ڈیٹا کے تفصیلی تجزیے سے دھاندلی یا کراچی کے طلبہ کی ناقص کارکردگی کے الزامات ثابت نہیں ہوتے۔
کراچی کے طلبہ کی کارکردگی اور امتحانی اعداد و شمار
محکمہ صحت کی رپورٹ کے مطابق صوبہ بھر سے کل تینتیس ہزار تین سو چھتیس (33,336) امیدواروں نے امتحان دیا، جن میں سے ستاون اعشاریہ چھیانوے فیصد طلبہ نے نوے یا اس سے زائد نمبر حاصل کیے۔ رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ کراچی ڈویژن کے نو ہزار پانچ سو پانچ (9,505) طلبہ نے صوبے میں سب سے زیادہ اوسط اسکور (107.67) حاصل کیا اور شہر کے چیاسٹھ اعشاریہ اٹھانوے فیصد طلبہ نے نوے سے زائد نمبر لے کر دیگر تمام اضلاع کو پیچھے چھوڑ دیا ہے۔
ڈومیسائل کوٹہ اور داخلہ پالیسی کی وضاحت
حکومت نے واضح کیا ہے کہ پبلک میڈیکل کالجز میں نشستوں کی تقسیم مروجہ قوانین کے تحت سخت ضلعی ڈومیسائل کی بنیاد پر کی جاتی ہے۔ لہٰذا، کسی دوسرے ضلع کے طلبہ کے زیادہ نمبر حاصل کرنے سے کراچی کے طلبہ کے لیے مخصوص نشستوں پر کوئی اثر نہیں پڑے گا۔ محکمہ صحت نے اپیل کی ہے کہ محض سیاسی مقاصد کے لیے امتحانی نتائج کو متنازع بنا کر طلبہ کا مستقبل داؤ پر نہ لگایا جائے۔






