حج 2026 کی تیاریاں عروج پر ہیں اور ہزاروں پاکستانی عازمینِ حج ارضِ مقدس روانگی کے لیے پر تول رہے ہیں۔ حج کے سفر کے دوران سب سے اہم سوالات میں سے ایک یہ ہے کہ ایک حاجی اپنے ساتھ کتنی نقدی یا سعودی ریال (Saudi Riyals) لے جا سکتا ہے، اور اسی حوالے سے سعودی ریال کی حد کو سمجھنا بے حد ضروری ہے۔ اسٹیٹ بینک آف پاکستان (SBP) اور کسٹمز حکام نے غیر ملکی کرنسی ساتھ لے جانے کے حوالے سے سخت قوانین وضع کیے ہیں تاکہ منی لانڈرنگ کی روک تھام کی جا سکے اور مسافروں کو ایئرپورٹ پر کسی پریشانی کا سامنا نہ کرنا پڑے۔
حج 2026 کے لیے فارن کرنسی کی قانونی حد (Currency Limit)
اسٹیٹ بینک آف پاکستان کے تازہ ترین نوٹیفکیشن اور مئی 2026 کے قوانین کے مطابق، پاکستان سے بیرونِ ملک جانے والے مسافروں کے لیے کرنسی کی حد درج ذیل ہے:
فی مسافر حد: ایک بالغ مسافر (18 سال سے زائد) ایک سفر کے دوران زیادہ سے زیادہ 5,000 امریکی ڈالر (یا اس کے برابر دیگر کرنسی جیسے سعودی ریال) اپنے ساتھ لے جا سکتا ہے۔
سالانہ حد: ایک کیلنڈر سال کے دوران ایک شخص کل 30,000 امریکی ڈالر مالیت کی کرنسی بیرون ملک لے جانے کا مجاز ہے۔
بچوں کے لیے حد: 18 سال سے کم عمر بچوں کے لیے یہ حد 2,500 امریکی ڈالر فی سفر اور 15,000 ڈالر سالانہ ہے۔
سعودی ریال میں حساب (Conversion to Saudi Riyal)
اگر ہم اسے سعودی ریال میں تبدیل کریں (موجودہ شرحِ مبادلہ کے مطابق) تو 5,000 ڈالر تقریباً 18,700 سے 18,750 سعودی ریال بنتے ہیں۔ عازمینِ حج کو مشورہ دیا جاتا ہے کہ وہ اس حد سے تجاوز نہ کریں کیونکہ ایئرپورٹ پر کسٹمز حکام کی جانب سے سخت تلاشی اور پوچھ گچھ کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔
ڈکلیریشن (Declaration) کب ضروری ہے؟
اگر آپ کے پاس نقد رقم مذکورہ بالا حد کے اندر ہے تو عام طور پر زبانی بتانا کافی ہوتا ہے۔ تاہم اگر آپ کے پاس بڑی رقم ہے یا آپ مخصوص حالات میں زیادہ رقم لے جا رہے ہیں تو آپ کو کسٹمز ڈکلیریشن فارم پُر کرنا ہوگا۔ یاد رہے کہ 10,000 ڈالر یا اس سے زیادہ مالیت کی کوئی بھی چیز (بشمول سونا یا بانڈز) لانا یا لے جانا لازمی ڈکلیریشن کے زمرے میں آتا ہے۔
پاکستانی کرنسی (PKR) کی حد
سعودی ریال کے علاوہ، آپ اپنے ساتھ کچھ پاکستانی روپے بھی رکھ سکتے ہیں۔ قانون کے مطابق، ایک مسافر زیادہ سے زیادہ 10,000 پاکستانی روپے نقد ساتھ لے جا سکتا ہے۔ اس سے زیادہ رقم رکھنا غیر قانونی تصور کیا جاتا ہے۔
عازمینِ حج کے لیے اہم تجاویز
ڈیجیٹل ادائیگی: صرف نقد رقم پر انحصار کرنے کے بجائے "حج ڈیبٹ کارڈ” یا پری پیڈ کارڈز کا استعمال کریں، جو سعودی عرب میں اے ٹی ایم پر بھی کارآمد ہوتے ہیں۔
رسیدیں پاس رکھیں: جب آپ منی ایکسچینج سے سعودی ریال خریدیں، تو ان کی آفیشل رسیدیں اپنے پاس محفوظ رکھیں تاکہ ضرورت پڑنے پر ایئرپورٹ پر دکھائی جا سکیں۔گروپ میں تقسیم: اگر آپ خاندان کے ساتھ سفر کر رہے ہیں، تو نقد رقم کو تمام افراد میں قانونی حد کے مطابق تقسیم کر دیں تاکہ ایک ہی شخص پر بوجھ نہ ہو۔
مزید الرٹس کے لیے Urdu Khabar وزٹ کریں






