آج 27 اپریل 2026 ہے اور لاہور جو کبھی لولی ووڈ کا گڑھ کہلاتا تھا ایک بار پھر اپنی کھوئی ہوئی رونقیں بحال کرنے کے لیے تیار ہے۔ وزیرِ اعلیٰ پنجاب مریم نواز نے لاہور میں 50 ایکڑ اراضی پر محیط پنجاب فلم سٹی کے قیام کا اعلان کر کے پاکستانی فلم انڈسٹری میں ایک نئے انقلاب کی نوید سنا دی ہے۔ یہ منصوبہ محض چند عمارتوں کا مجموعہ نہیں ہے بلکہ یہ پاکستان کے تخلیقی مستقبل اور ڈیجیٹل میڈیا کے لیے ایک گیم چینجر ثابت ہونے والا ہے۔
پاکستان میں سینما کی بحالی کے لیے کئی کوششیں کی گئیں لیکن انفراسٹرکچر کی کمی ہمیشہ ایک رکاوٹ رہی۔ پنجاب فلم سٹی کا مقصد اسی خلا کو پر کرنا ہے۔ یہ منصوبہ لولی ووڈ کو جدید دور کے تقاضوں سے ہم آہنگ کرنے اور عالمی سطح پر پاکستانی کہانیوں کو متعارف کروانے کے لیے ایک مضبوط پلیٹ فارم مہیا کرے گا۔
پنجاب فلم سٹی: جدید ٹیکنالوجی اور عالمی معیار کی سہولیات
لاہور کے مضافات میں تعمیر ہونے والا یہ فلم سٹی 50 ایکڑ پر پھیلا ہوگا جہاں شوٹنگ کے لیے جدید ترین ساؤنڈ اسٹیجز، انڈور اور آؤٹ ڈور لوکیشنز اور پوسٹ پروڈکشن کے لیے عالمی معیار کے اسٹوڈیوز تعمیر کیے جائیں گے۔
اس منصوبے کی اہم خصوصیات میں شامل ہیں:
ڈیجیٹل اسٹوڈیوز: جہاں ہالی ووڈ کی طرح وی ایف ایکس (VFX) اور اینیمیشن پر کام کیا جا سکے گا۔
سینما کمپلیکس: فلموں کی نمائش اور پریمیئر کے لیے جدید ترین تھیٹرز۔
فلم اکیڈمی: نوجوان فلم سازوں، اداکاروں اور تکنیکی ماہرین کی تربیت کے لیے ایک بین الاقوامی معیار کا تعلیمی ادارہ۔
حکومتِ پنجاب کے مطابق اس منصوبے کے لیے بین الاقوامی ماہرین کی خدمات حاصل کی گئی ہیں تاکہ اسے دبئی اسٹوڈیو سٹی یا بالی ووڈ کے فلم سٹی کے نقشِ قدم پر تیار کیا جا سکے۔
Big announcement: Punjab to establish a 50 acre , first of its kind #PunjabFilmCity in Lahore bringing the glory of filmmaking back to Lahore and Punjab.
— Maryam Nawaz Sharif (@MaryamNSharif) April 26, 2026
Conceived nearly two years ago and shaped through continuous consultations with filmmakers, producers, and actors, this… pic.twitter.com/E9mwLb0lJh
روزگار کے مواقع اور میڈیا پروفیشنلز کے لیے نئی راہیں
اگر آپ میڈیا، ڈیجیٹل مارکیٹنگ یا تخلیقی آرٹس سے وابستہ ہیں تو یہ منصوبہ براہِ راست آپ پر اثر انداز ہوگا۔ پنجاب فلم سٹی کے قیام سے نہ صرف اداکاروں اور ہدایت کاروں کے لیے کام بڑھے گا بلکہ اسکرپٹ رائٹرز، ایڈیٹرز، کیمرہ مین اور ڈیجیٹل گروتھ کے ماہرین کے لیے ہزاروں نئی ملازمتیں پیدا ہوں گی۔
خصوصاً وہ نوجوان جو یوٹیوب، نیٹ فلکس یا دیگر اسٹریمنگ پلیٹ فارمز کے لیے مواد تیار کرنا چاہتے ہیں ان کے لیے یہاں سستی اور معیاری سہولیات دستیاب ہوں گی۔ محکمہ اطلاعات و ثقافت پنجاب اس منصوبے کے تحت نوجوانوں کو وظائف اور تربیتی کورسز بھی فراہم کرے گا۔
ثقافتی بحالی اور عالمی تعاون
پاکستان کی تاریخ، صوفیانہ کلام اور لوک داستانیں پوری دنیا میں اپنی مثال آپ ہیں۔ ایک ایسے وقت میں جب مٹی کی خوشبو اور ثقافتی ورثے کی مانگ بڑھ رہی ہے یہ فلم سٹی صوفی شعراء جیسے رومی اور فرید کے افکار کو عالمی پردے پر لانے کا بہترین ذریعہ بنے گا۔
غیر ملکی پروڈکشن ہاؤسز کو پنجاب میں شوٹنگ کے لیے مدعو کرنے سے نہ صرف سیاحت کو فروغ ملے گا بلکہ زرِ مبادلہ میں بھی اضافہ ہوگا۔ حکومت کی جانب سے غیر ملکی فلم سازوں کے لیے خصوصی ٹیکس چھوٹ اور "سنگل ونڈو” کلیئرنس کا نظام بھی متعارف کروایا جا رہا ہے تاکہ پاکستان کو ایک پرکشش فلمنگ ڈیسٹینیشن بنایا جا سکے۔
مزید اہم الرٹس جاننے کے لیے Urdu Khabar ضرور وزٹ کریں






