صوبائی فوجداری نظامِ انصاف میں اصلاحات کی جانب ایک بڑے قدم کے طور پر حکومتِ پنجاب نے پنجاب کرائم سین یونٹ ریگولیشنز کے تحت کرائم سین یونٹس (CSUs) کے لیے ایک نیا اور جامع فریم ورک نافذ کر دیا ہے۔ان نئے ضوابط کا مقصد فرانزک تحقیقات کو مضبوط بنانا مادی ثبوتوں کے تحفظ کو یقینی بنانا اور پنجاب میں قانون نافذ کرنے والے اداروں کے طریقہ کار کو عالمی معیار کے مطابق ڈھالنا ہے۔
پنجاب فرانزک سائنس ایجنسی (PFSA) کے دائرہ اختیار کو وسعت دے کر حکومت کا مقصد سائنسی بنیادوں پر مبنی ناقابلِ تردید ثبوتوں کے ذریعے جرائم میں سزاؤں کی شرح کو نمایاں طور پر بہتر بنانا ہے۔
فرانزک مہارت کی نچلی سطح تک منتقلی
نئے قوانین کے تحت PFSA ڈویژنل اور ضلعی دونوں سطحوں پر خصوصی کرائم سین یونٹس قائم کرے گی۔ اس مرکزیت کے خاتمے سے یہ یقینی بنایا جائے گا کہ فرانزک ماہرین جائے وقوعہ پر تیزی سے پہنچ سکیں جس سے اس سنہری وقت کے ضیاع کا خطرہ کم ہو جائے گا جس میں ثبوتوں کے خراب ہونے یا ان میں چھیڑ چھاڑ کا سب سے زیادہ امکان ہوتا ہے۔
تحقیقات کے اعلیٰ معیار کو ہر ضلع تک پہنچا کر صوبائی حکومت اس بات کو یقینی بنا رہی ہے کہ دور دراز کے علاقے بھی اسی جدید فرانزک سپورٹ سے فائدہ اٹھا سکیں جو بڑے شہروں کو میسر ہے۔
فوری رسپانس اور جائے وقوعہ کا تحفظ
نیا فریم ورک تفتیشی افسران (IOs) پر بھاری ذمہ داری عائد کرتا ہے۔ نئے مینڈیٹ کے مطابق:
فوری آمد لازمی: تفتیشی افسران کے لیے قتل، خودکشی اور جنسی زیادتی جیسے سنگین جرائم کے مقامات پر فوری پہنچنا لازمی ہے۔
سخت ناکہ بندی: پولیس اور قانون نافذ کرنے والے ادارے اب اس بات کے قانونی طور پر پابند ہیں کہ وہ رکاوٹیں لگا کر فوری طور پر جائے وقوعہ کو محفوظ بنائیں۔
آلودگی سے بچاؤ: جائے وقوعہ تک رسائی کو سختی سے کنٹرول کیا جائے گا تاکہ غیر متعلقہ افراد کی مداخلت سے حیاتیاتی یا مادی ثبوتوں کے ضائع ہونے کا خدشہ ختم کیا جا سکے۔
ثبوتوں کی ہینڈلنگ کے سخت پروٹوکولز
قوانین میں جائے وقوعہ کی دستاویز سازی کے لیے ایک انتہائی منظم طریقہ کار متعارف کرایا گیا ہے۔ تفتیشی ٹیموں کے لیے اب چار مرحلہ وار عمل کی پیروی کرنا لازمی ہے:
دستاویزی ثبوت: اعلیٰ معیار کی تصاویر اور 360 ڈگری ویڈیوز بنانا۔
فرانزک اسکیچنگ: جائے وقوعہ کے تفصیلی اور پیمائشی خاکے تیار کرنا۔
تحریری ریکارڈ: جائے وقوعہ پر کی جانے والی ہر کارروائی کا تحریری لاگ (Log) برقرار رکھنا۔
معیاری لیبلنگ: ہر ثبوت کو پیک اور سیل کر کے اس پر کرائم سین نمبر، نمونہ نمبر، تاریخ/وقت اور شے کی تفصیلی وضاحت درج کرنا۔
مزید برآں ثبوتوں کی متعلقہ حکام کو منتقلی کے لیے اب باقاعدہ رسیدوں اور گواہوں کے دستخط لازمی قرار دیئے گئے ہیں تاکہ چین آف کسٹڈی کے تسلسل کو لیبارٹری پہنچنے تک برقرار رکھا جا سکے۔
محفوظ ترسیل اور اسٹوریج
ترسیل کے دوران ثبوتوں کو کسی بھی قسم کے نقصان سے بچانے کے لیے پالیسی کے تحت مخصوص فرانزک گاڑیوں کا استعمال لازمی قرار دیا گیا ہے۔ اس کے علاوہ ڈویژنل اور ضلعی سطح پر کلیکشن یونٹس کو حساس حیاتیاتی نمونوں کے تحفظ کے لیے خصوصی کلائمیٹ کنٹرولڈ (درجہ حرارت برقرار رکھنے والی) سہولیات سے لیس کیا جائے گا تاکہ وہ لیبارٹری ٹیسٹنگ تک محفوظ رہ سکیں۔
تازہ ترین خبروں کے لیے Urdu Khabar پر جائیں






