حکومتِ پاکستان نے ملک میں نجی حج آپریٹرز کے نظام کو یکسر بدلنے اور عازمینِ حج کے حقوق کا تحفظ یقینی بنانے کے لیے ایک تاریخی فیصلہ کیا ہے۔ وزیر اعظم شہباز شریف کی زیرِ صدارت وفاقی کابینہ کے حالیہ اجلاس میں پرائیویٹ حج پالیسی 2027-2030 کی باقاعدہ منظوری دے دی گئی ہے۔ یہ نئی چار سالہ پالیسی حج 2025 کے اس بڑے بحران کے بعد لائی گئی ہے جس میں نجی آپریٹرز کی بدانتظامی، سعودی ڈیڈ لائنز کی خلاف ورزی اور بروقت ادائیگیاں نہ ہونے کی وجہ سے تقریباً 67,000 پاکستانی شہری حج کی سعادت حاصل کرنے سے محروم رہ گئے تھے۔
اس سخت ترین پالیسی کا بنیادی مقصد نجی حج گروپ آرگنائزرز (HGOs) پر حکومتی کنٹرول اور نگرانی کو سخت کرنا ہے تاکہ مستقبل میں کسی بھی قسم کے فراڈ یا بدانتظامی کا راستہ روکا جا سکے۔ اگر آپ بھی آنے والے سالوں میں نجی اسکیم کے تحت حج پر جانے کا ارادہ رکھتے ہیں تو وزارتِ مذہبی امور کی اس نئی پالیسی کے اہم نکات اور اپنے پیسے کی حفاظت کے متبادل نظام کو تفصیل سے سمجھ لیں۔
پرائیویٹ حج پالیسی 2027-2030 کی نمایاں تبدیلیاں
وزارتِ مذہبی امور اور بین المذاہب ہم آہنگی کی جانب سے جاری کردہ نوٹیفکیشن کے مطابق، نجی حج کے طریقہ کار میں درج ذیل بنیادی تبدیلیاں کی گئی ہیں:
مفت لازمی پری رجسٹریشن (Mandatory Pre-Registration): حج 2027 اور اس کے بعد کے سالوں کے لیے اب ہر عازم کو حج سیزن ختم ہوتے ہی پیشگی رجسٹریشن کروانا ہوگی۔ یہ رجسٹریشن بالکل مفت ہے اور اس مرحلے پر کوئی رقم ادا نہیں کرنی ہوگی۔ بعد میں عازمین کے پاس سرکاری یا نجی اسکیم میں سے کسی ایک کا انتخاب کرنے کا پورا حق ہوگا۔
کمپنیوں کے لیے عازمین کی حد (Quota Threshold): چھوٹی اور نااہل کمپنیوں کی حوصلہ شکنی کے لیے اب ہر نجی حج آپریٹر کے لیے کم از کم 2,000 عازمین کی بکنگ حاصل کرنا لازمی قرار دیا گیا ہے۔ جو کمپنیاں اس معیار پر پورا نہیں اتریں گی انہیں فوری طور پر "غیر فعال” (Inactive) قرار دے کر بلیک لسٹ کر دیا جائے گا۔
تین سالہ لائسنس اور رینکنگ: نجی کمپنیوں کے موجودہ لائسنسوں کی ازسرنو جانچ پڑتال (Re-evaluation) لازمی ہوگی۔ بیرونی ماہرین (External Experts) تمام کمپنیوں کی کارکردگی کا آزادانہ جائزہ لے کر ان کی رینکنگ (Ranking) کریں گے اور موزوں کمپنیوں کو صرف 3 سال کے لیے لائسنس جاری کیے جائیں گے۔
کامل ڈیجیٹلائزیشن (End-to-End Digital System): نجی حج کے تمام آپریشنز کو مکمل طور پر ڈیجیٹل سسٹم پر منتقل کیا جا رہا ہے۔ عازمین کی شکایات کے فوری ازالے کے لیے پاک حج ای (Pak Hajj App) اور الیکٹرانک مانیٹرنگ ڈیش بورڈ کو مزید فعال کیا جائے گا۔
آپ کا پیسہ اب کیسے محفوظ رہے گا؟
حج 2025 کے بحران میں سب سے بڑا مسئلہ یہ سامنے آیا تھا کہ نجی کمپنیوں نے شہریوں سے کروڑوں روپے تو وصول کر لیے لیکن وہ رقم سعودی سروس پرووائیڈرز کو منتقل نہیں کی جس کی وجہ سے ویزے اور رہائش کے معاہدے منسوخ ہو گئے۔ اس لوٹ مار کو روکنے کے لیے پرائیویٹ حج پالیسی 2027-2030 میں پیسے کی حفاظت کا فول پروف بینکنگ اسٹرکچر قائم کیا گیا ہے:
رقم ہولڈ کرنے پر مکمل پابندی: اب کوئی بھی نجی حج کمپنی عازمین سے نقد رقم لے کر اپنے پاس جمع یا ہولڈ نہیں کر سکے گی۔
آفیشل بینکنگ چینلز کا استعمال: عازمین کی تمام تر ادائیگیاں ڈائریکٹ اسٹیٹ بینک آف پاکستان (SBP) اور وزارتِ مذہبی امور کے نامزد کردہ آفیشل بینکنگ چینلز کے ذریعے جمع کی جائیں گی۔
براہِ راست سعودی ادائیگیاں: عازمین کی جمع کروائی گئی رقم نجی آپریٹرز کے اکاؤنٹ میں جانے کے بجائے اسٹیٹ بینک کے آفیشل اکاؤنٹ کے ذریعے براہِ راست سعودی عرب کے سروس پرووائیڈرز (مکاتب، ٹرانسپورٹ، اور ہوٹل مالکان) کو منتقل کی جائے گی۔
فنانشل گارنٹی اور حج محافظ اسکیم: کسی بھی ہنگامی صورتحال یا کمپنی کی جانب سے سروسز کی عدم فراہمی پر عازمین کو فوری ریفنڈز کی فراہمی کے لیے کمپنیوں سے بھاری فنانشل گارنٹی لی جائے گی اور اسے "حج محافظ اسکیم” کے تحت محفوظ کیا جائے گا۔






