پاکستان اور ترکمانستان نے باہمی تعلقات کو وسعت دیتے ہوئے مذہبی امور، قرآنی علوم اور اسلامی تعلیمات کے شعبوں میں دوطرفہ تعاون کو فروغ دینے کا فیصلہ کیا ہے۔ اسلام آباد میں ہونے والے ایک اہم اعلیٰ سطحی اجلاس میں دونوں ممالک کے رہنماؤں نے دینی تعلیمی نظام کو جدید اور مؤثر بنانے کے لیے مشترکہ حکمت عملی پر اتفاق کیا ہے۔
دینی تعلیمی نظام اور نصاب میں شراکت داری
ترکمانستان کے سابق گرینڈ مفتی اور چیف امام، یالکاپ ہوج گلیئیف نے وفاقی سیکرٹری برائے مذہبی امور ابرار احمد مرزا سے ملاقات کی۔ اس ملاقات کا بنیادی مقصد پاکستان کے دینی تعلیمی نظام، تدریسی طریقوں اور اسلامی نصاب کا جائزہ لینا تھا۔ ترکمانستان نے پاکستان کے تجربات سے فائدہ اٹھاتے ہوئے اپنے ہاں اسلامی تعلیمات کو فروغ دینے میں گہری دلچسپی کا اظہار کیا ہے۔
اسلامی عقائد، فقہ اور تفسیر کا فروغ
ترکمانستان کے چیف امام کا کہنا تھا کہ ان کا ملک پاکستان میں پڑھائے جانے والے اسلامی عقائد، فقہ اور تفسیر کے طریقہ کار کو اپنانا چاہتا ہے۔ پاکستان اپنے وسیع تجربے کی بدولت ترکمانستان کے اساتذہ اور طلبہ کی علمی رہنمائی کرے گا۔ اس اشتراکِ عمل سے نہ صرف دونوں ممالک کے برادرانہ تعلقات مضبوط ہوں گے بلکہ خطے میں اعتدال پسند اسلامی اقدار کو بھی فروغ ملے گا۔






