پاکستان اسٹاک ایکسچینج 100000 پوائنٹس کے قریب، کراچی کے مالیاتی دل کی دھڑکنیں تیز ہو چکی ہیں۔ جمعہ کے اس سنسنی خیز سیشن کے بعد جہاں کے ایس ای-100 انڈیکس میں 1,200 پوائنٹس کا زبردست اضافہ دیکھا گیا، آج ہفتے کی صبح 18 اپریل 2026 کو اسٹاک مارکیٹ کے حلقوں میں جوش و خروش عروج پر ہے۔ ماہرینِ معیشت کی حالیہ بیٹھک میں اب بات صرف بہتری کی نہیں بلکہ ایک تاریخی سنگِ میل کی ہو رہی ہے: یعنی 100,000 پوائنٹس کی نفسیاتی حد کو عبور کرنا۔
جمعہ کو مارکیٹ میں دیکھا گیا اضافہ محض ایک عارضی تیزی نہیں تھی بلکہ یہ سرمایہ کاروں کے اعتماد کا منہ بولتا ثبوت تھا۔ پاکستان اسٹاک ایکسچینج (PSX) اب اپنی تاریخ کی سب سے بڑی چھ ہندسی قدر (Six-figure valuation) کی دہلیز پر کھڑا ہے۔ سرمایہ کاروں کے لیے یہ صرف ایک عدد نہیں ہے، بلکہ یہ پیر کے روز مارکیٹ کھلنے پر ایک ایسے تاریخی آغاز کی تیاری ہے جس کی مثال ماضی میں نہیں ملتی۔
1,200 پوائنٹس کا بڑا اضافہ: اس تیزی کی وجہ کیا تھی؟
جمعہ کے روز مارکیٹ میں آنے والا طوفان مثبت معاشی اشاریوں کا نتیجہ تھا۔ مالیاتی ماہرین اس تیزی کے پیچھے تین اہم وجوہات بتاتے ہیں:
مہنگائی میں کمی: تازہ ترین اعداد و شمار بتاتے ہیں کہ مہنگائی کی شرح میں نمایاں کمی آئی ہے جس سے اسٹیٹ بینک آف پاکستان (SBP) کے لیے شرحِ سود میں بڑی کمی کا راستہ صاف ہو گیا ہے۔
کرنٹ اکاؤنٹ میں استحکام: وزارتِ خزانہ کی جانب سے کرنٹ اکاؤنٹ بیلنس میں استحکام کی رپورٹ نے غیر ملکی ادارہ جاتی سرمایہ کاروں کے اعتماد کو بحال کیا ہے۔
کارپوریٹ منافع: بینکنگ اور انرجی سیکٹر کی بڑی کمپنیوں نے شاندار سہ ماہی منافع کا اعلان کیا ہے جس نے مارکیٹ کو ٹھوس بنیاد فراہم کی ہے۔
100,000 پوائنٹس کا سنگِ میل
100,000 کی حد عبور کرنا صرف ایک ہندسہ نہیں ہے۔ مارکیٹ کی نفسیات میں اس طرح کے بڑے راؤنڈ نمبرز ایک چھت (Glass Ceiling) کی طرح کام کرتے ہیں۔ جب یہ حد ٹوٹتی ہے تو یہ مارکیٹ میں خریداری کی لہر پیدا کرتی ہے جس سے وہ چھوٹے سرمایہ کار بھی متحرک ہو جاتے ہیں جو اب تک تماشائی بنے ہوئے تھے۔
سیکیورٹیز اینڈ ایکسچینج کمیشن آف پاکستان (SECP) نے نئے ٹریڈنگ اکاؤنٹس کھولنے کے رجحان میں اضافے کو نوٹ کیا ہے جو اس بات کی علامت ہے کہ عام عوام بھی اب اس تاریخی تیزی کا حصہ بننا چاہتی ہے۔
پیر کی صبح کن شعبوں پر نظر رہے گی؟
ماہرین پیر کے روز ان مخصوص شعبوں کو ترقی کا انجن قرار دے رہے ہیں:
کمرشل بینک: شرحِ سود میں کمی کی توقع کے باعث قرضوں کی طلب میں اضافے سے بینکوں کو فائدہ پہنچنے کا امکان ہے۔
ٹیکنالوجی اور انرجی: ڈیجیٹل برآمدات پر حکومتی توجہ کی وجہ سے یہ شعبے ٹریڈنگ والیوم میں سرفہرست رہ سکتے ہیں۔
فرٹیلائزر اور سیمنٹ: ان شعبوں میں زیادہ ڈیویڈنڈ (منافع) کی وجہ سے بڑے سرمایہ کار ان میں دلچسپی برقرار رکھیں گے۔
مزید خبروں اور تازہ اپڈیٹس کے لیے Urdu Khabar ضرور وزٹ کریں






