پاکستان سے پولیو وائرس کے مکمل خاتمے اور آنے والی نسلوں کو عمر بھر کی معذوری سے بچانے کے لیے حکومتِ پاکستان اور عالمی اداروں کے تعاون سے پاکستان کا انسداد پولیو پروگرام انتہائی سرگرمی سے کام کر رہا ہے۔ سال 2026 کو پولیو کے حتمی خاتمے کا سال قرار دیا گیا ہے جس کے تحت ملک بھر میں بڑے پیمانے پر قومی اور ذیلی (Sub-National) مہمات چلائی جا رہی ہیں تاکہ وائرس کی منتقلی کے سلسلے کو ہمیشہ کے لیے توڑا جا سکے۔ حالیہ مہمات کے دوران ملک کے 79 ہائی رسک اضلاع میں لاکھوں بچوں کو پولیو سے بچاؤ کے قطرے پلانے کا ہدف مقرر کیا گیا ہے۔
پولیو مہم 2026 کے فعال اضلاع اور ہدف
قومی ہنگامی آپریشنز سنٹر (NEOC) کے تازہ ترین شیڈول کے مطابق، اس خصوصی مہم کا دائرہ کار ان تمام علاقوں تک پھیلایا گیا ہے جہاں پولیو وائرس کے پھیلاؤ کا خطرہ موجود ہے۔ ملک بھر میں صوبائی بنیادوں پر فعال اضلاع کی تفصیلات درج ذیل ہیں:
خیبر پختونخوا: صوبے کے 23 اضلاع میں خصوصی مہم چلائی جا رہی ہے جہاں 46 لاکھ سے زائد بچوں کو قطرے پلانے کا ہدف ہے۔
بلوچستان: سب سے زیادہ حساس صوبے کے 25 منتخب اضلاع میں انسداد پولیو ٹیمیں گھر گھر جا رہی ہیں۔
سندھ: کراچی کے مختلف حصوں سمیت صوبے کے 20 اضلاع اس مہم کا حصہ ہیں۔
پنجاب: صوبے کے 10 ہائی رسک اضلاع میں 61 لاکھ سے زائد بچوں کی ویکسینیشن کا ہدف مقرر کیا گیا ہے۔
وفاقی دارالحکومت: اسلام آباد اور اس کے مضافات میں تقریباً 4 لاکھ 50 ہزار بچوں کو پولیو کے قطرے پلائے جا رہے ہیں۔
اس مہم کی نگرانی اور گائیڈ لائنز کے بارے میں باضابطہ معلومات Pakistan Polio Eradication Programme کی آفیشل ویب سائٹ پر دیکھی جا سکتی ہیں۔
والدین کے لیے جاننا کیوں ضروری ہے؟
بہت سے والدین میں یہ غلط فہمی پائی جاتی ہے کہ ایک یا دو بار قطرے پلانا کافی ہوتا ہے۔ پاکستان کا انسداد پولیو پروگرام یہ واضح کرتا ہے کہ پولیو کا کوئی علاج نہیں ہے اور صرف بار بار ویکسینیشن ہی بچوں میں اس وائرس کے خلاف مضبوط مدافعت پیدا کرتی ہے۔ والدین کو درج ذیل باتوں کا خاص خیال رکھنا چاہیے:
عمر کی حد: 5 سال یا اس سے کم عمر کے تمام بچوں کو ہر مہم میں قطرے پلانا لازمی ہے۔
ٹیموں سے تعاون: گھر آنے والے 4 لاکھ سے زائد تربیت یافتہ ہیلتھ ورکرز سے تعاون کریں اور ان سے اپنی انگلیوں پر نشانات لازمی لگوائیں۔
حفاظتی ٹیکوں کا کورس: مہم کے قطروں کے ساتھ ساتھ بچوں کا حفاظتی ٹیکوں کا باقاعدہ کورس (Routine Immunization) بھی مکمل کروائیں۔
وفاقی وزارتِ صحت کی ہدایات کے مطابق اگر کسی وجہ سے پولیو ٹیم آپ کے گھر نہ پہنچ سکے تو فوری طور پر قریبی ہیلتھ سنٹر کا رخ کریں یا وزارت وفاقی تعلیم و پیشہ ورانہ تربیت کے اشتراک سے چلنے والے صحت کے مراکز سے رابطہ کریں۔
عالمی تعاون اور حکومتی عزم
عالمی ادارہ صحت (WHO)، یونیسف (UNICEF) اور روٹری انٹرنیشنل جیسے بڑے ادارے پاکستان کو پولیو فری بنانے کے لیے مالی اور تکنیکی مدد فراہم کر رہے ہیں۔ حکومت پاکستان نے پولیو کے خاتمے کو قومی ایمرجنسی قرار دیا ہے۔ فرنٹ لائن ورکرز کی انتھک محنت کی بدولت پاکستان میں پولیو کیسز کی تعداد میں 99 فیصد سے زائد کمی واقع ہو چکی ہے لیکن مکمل خاتمے کے لیے آخری قدم سب سے اہم ہے۔
پولیو وائرس کو جڑ سے اکھاڑ پھینکنا صرف حکومت کی ذمہ داری نہیں بلکہ ہر شہری اور خاص طور پر والدین کا قومی فریضہ ہے۔ اپنے 5 سال سے کم عمر کے بچوں کو پولیو کے قطرے پلوا کر ناصرف انہیں عمر بھر کی معذوری سے بچائیں بلکہ پاکستان کو پولیو سے پاک ملک بنانے میں اپنا کردار ادا کریں۔



