آج یکم مئی 2026 ہے اور کراچی کے علاقے گلستانِ جوہر میں پیش آنے والے نون لیگ یوتھ لیڈر کراچی فائرنگ کے ایک افسوسناک واقعے نے شہر کو لرزا کر رکھ دیا ہے۔ ایک مقامی کیفے میں ہونے والے جھگڑے کے دوران فائرنگ سے مسلم لیگ (ن) یوتھ ونگ کے 22 سالہ عہدیدار نجیب اللہ جاں بحق ہو گئے ہیں۔ اس واقعے کی سی سی ٹی وی فوٹیج منظرِ عام پر آنے کے بعد سکیورٹی اور عوامی مقامات پر بڑھتے ہوئے تشدد کے حوالے سے کئی سنگین سوالات اٹھ کھڑے ہوئے ہیں۔
یہ واقعہ گلستانِ جوہر بلاک 1 میں واقع ایک شیشہ کیفے میں پیش آیا۔ اس واقعے کے محرکات کے حوالے سے دو مختلف بیانات سامنے آئے ہیں:
یوتھ ونگ کا مؤقف: مسلم لیگ (ن) کے مقامی عہدیداروں کے مطابق وہ کیفے میں منشیات کے مبینہ استعمال اور کم عمر بچوں کی موجودگی کی شکایت لے کر گئے تھے۔
انتظامیہ کا مؤقف: کیفے انتظامیہ کا الزام ہے کہ نوجوانوں کا گروپ نشے میں تھا اور انہوں نے فیملی سیکشن میں زبردستی داخل ہونے کی کوشش کی جس سے جھگڑا شروع ہوا۔
سی سی ٹی وی فوٹیج کے ہوشربا انکشافات
پولیس کی جانب سے حاصل کی گئی سی سی ٹی وی فوٹیج میں واقعے کی لرزہ خیز تفصیلات سامنے آئی ہیں:
تلخ کلامی: ویڈیو میں دیکھا جا سکتا ہے کہ نوجوانوں کا ایک گروہ کیفے میں داخل ہوتے ہی سکیورٹی گارڈ سے بحث شروع کر دیتا ہے۔
جھگڑا اور اسلحہ چھیننے کی کوشش: فوٹیج میں دکھایا گیا ہے کہ گارڈ کو زمین پر گرا کر تشدد کا نشانہ بنایا گیا اور مبینہ طور پر اس سے اسلحہ چھیننے کی کوشش کی گئی۔
مہلک فائرنگ: اسی کشمکش کے دوران سکیورٹی گارڈ اکرام اللہ نے فائرنگ کر دی، جس سے نجیب اللہ کے سینے میں گولی لگی اور وہ موقع پر ہی دم توڑ گئے، جبکہ ایک اور نوجوان عدنان زخمی ہوا۔
افراتفری: فائرنگ کے فوراً بعد کیفے میں بھگدڑ مچ گئی اور گاہک اپنی جانیں بچانے کے لیے باہر بھاگے۔
پولیس کارروائی اور ایف آئی آر (FIR) کی تفصیلات
گلستانِ جوہر پولیس نے مقتول کے بھائی مبشر علی کی مدعیت میں مقدمہ (FIR No. 26/369) درج کر لیا ہے۔ پولیس نے قتل اور اقدامِ قتل کی دفعات کے تحت درج ذیل افراد کو نامزد کیا ہے:
اکرام اللہ (سکیورٹی گارڈ)
جہانزیب (کیفے مالِک کا بیٹا)
مہدی (کیفے مینیجر)
حسین شاہ
پولیس اب تک 6 مشتبہ افراد کو حراست میں لے چکی ہے اور کیفے کے آپریشنل لائسنس کی جانچ پڑتال بھی جاری ہے۔
مزید تازہ اپڈیٹس اور خبروں کے لیے Urdu Khabar کا رخ کریں۔






