پاکستان کی بینکاری صنعت کے لیے سال 2025 ایک ملا جلا مگر مجموعی طور پر سب سے زیادہ منافع بخش بینک کی حیثیت سے منافع بخش سال ثابت ہوا۔ جہاں ایک طرف اسٹیٹ بینک کی جانب سے پالیسی ریٹ میں کمی نے کئی بینکوں کی آمدنی پر دباؤ ڈالا، وہاں دوسری طرف کچھ بینکوں نے اپنی حکمتِ عملی اور آپریشنل تبدیلیوں سے ریکارڈ توڑ منافع حاصل کیا۔ مجموعی طور پر بینکاری شعبے نے 2025 میں 671 ارب روپے کا منافع کمایا جو کہ 2024 کے 600 ارب روپے کے مقابلے میں واضح اضافہ ہے۔
پاکستان کی بینکاری تاریخ میں پہلی بار کسی بینک نے 130 ارب روپے کا ہندسہ عبور کیا ہے اور یہ سہرا یونائیٹڈ بینک لمیٹڈ (UBL) کے سر بندھا ہے۔ تاہم صنعت کے مجموعی اعداد و شمار یہ ظاہر کرتے ہیں کہ ٹاپ 10 بینکوں میں سے صرف 3 بینک اپنے منافع میں اضافہ کر سکے جبکہ 7 بینکوں کے منافع میں کمی دیکھی گئی۔
ٹاپ 5 بینکوں کی کارکردگی کا موازنہ
سال 2025 میں رینکنگ میں بڑی تبدیلیاں دیکھنے کو ملیں خاص طور پر نیشنل بینک آف پاکستان (NBP) کی نویں نمبر سے تیسرے نمبر پر چھلانگ سب سے حیران کن رہی۔ ذیل میں ٹاپ 5 بینکوں کا موازنہ پیش ہے:
| بینک کا نام | منافع (2025) | نمو/کمی (سالانہ) | اہم خاصیت |
| UBL | 130 ارب روپے | ریکارڈ اضافہ | انڈسٹری کا سب سے زیادہ منافع |
| Meezan Bank | 89 ارب روپے | 12% کمی | سب سے بڑا اسلامی بینک |
| NBP | 85.9 ارب روپے | 220% اضافہ | سرکاری شعبے کی بہترین کارکردگی |
| HBL | 66.8 ارب روپے | اضافہ | سب سے بڑا ڈپازٹ بیس (5.5 ٹریلین) |
| MCB | 54.2 ارب روپے | 5% کمی | سب سے زیادہ ڈویڈنڈ (36 روپے) |
یو بی ایل اور نیشنل بینک: 2025 کے اصل فاتح
یونائیٹڈ بینک لمیٹڈ (UBL) نے سلک بینک کے ساتھ انضمام اور بہتر اثاثہ جات کی مینجمنٹ کے ذریعے بینکاری کی دنیا میں ہلچل مچا دی۔ 130 ارب روپے کا خالص منافع نہ صرف یو بی ایل بلکہ پاکستان کی پوری بینکاری تاریخ کا سب سے بڑا منافع ہے۔ اس کے برعکس نیشنل بینک (NBP) نے اپنے منافع کو 26.8 ارب سے بڑھا کر 85.9 ارب روپے تک پہنچا کر سب کو ورطہِ حیرت میں ڈال دیا۔ این بی پی نے 35 روپے فی شیئر کا تاریخی ڈویڈنڈ دے کر نجی بینکوں کو بھی پیچھے چھوڑ دیا۔
اسلامی بینکاری اور دیگر بڑے بینکوں کے چیلنجز
ملک کے سب سے بڑے اسلامی بینک میزان بینک کے لیے 2025 تھوڑا مشکل ثابت ہوا۔ اگرچہ بینک نے 89 ارب روپے کا بھاری منافع کمایا لیکن یہ 2024 کے 101 ارب روپے کے مقابلے میں کم تھا۔ اس کی بڑی وجہ شرحِ سود میں کمی اور بدلتی ہوئی معاشی پالیسیاں بتائی جاتی ہیں۔
اسی طرح ایم سی بی (MCB) اور الائیڈ بینک (ABL) کے منافع میں بھی بالترتیب 5 فیصد اور 18 فیصد کی کمی دیکھی گئی۔ ماہرین کے مطابق ان بینکوں نے منافع میں کمی کے باوجود شیئر ہولڈرز کو بہترین ریٹرن فراہم کیا تاکہ ان کا اعتماد برقرار رہے۔ اسٹیٹ بینک آف پاکستان کی رپورٹس کے مطابق، بینکوں کو اب اپنی آمدنی کے لیے صرف سرکاری سیکیورٹیز پر انحصار کرنے کے بجائے نجی شعبے کو قرضوں کی فراہمی پر توجہ دینی ہوگی۔
مستقبل کی حکمتِ عملی اور 2026 کا منظرنامہ
پاکستان اسٹاک ایکسچینج (PSX) میں بینکوں کے شیئرز کی قیمتوں میں حالیہ استحکام یہ ظاہر کرتا ہے کہ سرمایہ کار اب بھی بینکاری شعبے کو پرکشش سمجھتے ہیں۔ تاہم، 2026 میں مقابلہ مزید سخت ہونے کی توقع ہے کیونکہ ڈیجیٹل بینکنگ اور فن ٹیک (FinTech) ادارے روایتی بینکوں کے مارکیٹ شیئر کو چیلنج کر رہے ہیں۔تجزیہ: "بینکوں کے لیے اب صرف بڑے ڈپازٹس جمع کرنا کافی نہیں رہا، بلکہ ٹیکنالوجی میں سرمایہ کاری اور آپریشنل اخراجات میں کمی ہی انہیں ٹاپ 10 کی فہرست میں برقرار رکھ سکے گی۔”
مزید اہم الرٹس اور تازہ ترین معلومات کے لیے Urdu Khabar ضرور ملاحظہ کریں۔






