لاہور ہائیکورٹ نے بچوں کے نان و نفقہ کے حوالے سے ایک اہم فیصلہ جاری کیا ہے جس کے تحت عدالت نے بچوں کا ماہانہ خرچہ بڑھا کر 30,000 روپے فی بچہ مقرر کر دیا ہے۔ اس عدالتی فیصلے میں واضح کیا گیا ہے کہ مہنگائی اور بچوں کی بڑھتی ہوئی ضروریات کے پیشِ نظر بچوں کا ماہانہ خرچہ قانون کے تحت اب ہر سال 10 فیصد لازمی اضافے کے ساتھ ادا کیا جائے گا۔
والد کی مالی ذمہ داری اور عدالتی احکامات
عدالت عالیہ نے اپنے تحریری فیصلے میں اس بات پر زور دیا ہے کہ طلاق یا علیحدگی کے بعد بھی بچوں کی کفالت والد کی اولین اور غیر مشروط قانونی ذمہ داری ہے۔ اگر والد بیرونِ ملک مقیم ہو یا بیروزگاری کا عذر پیش کرے تب بھی وہ بچوں کے اخراجات سے بری الذمہ نہیں ہو سکتا۔ عدالت نے واضح کیا کہ ماہانہ نان و نفقہ کا تعین والد کی اصل کمائی کی صلاحیت، بچوں کی تعلیم، صحت اور ان کی بنیادی سماجی ضروریات کو مدنظر رکھ کر کیا جائے گا۔
سالانہ 10 فیصد اضافے کا طریقہ کار
اس فیصلے کے تحت فیملی کورٹ کے قوانین کے مطابق خرچے میں 10 فیصد سالانہ خودکار اضافہ لاگو ہوگا۔ عدالت نے ٹرائل کورٹ کو ہدایت کی ہے کہ وہ 2019ء سے لے کر اب تک کے تمام بقایاجات کا حساب اس سالانہ اضافے کے تناسب سے لگا کر وصول کرے۔ یہ اقدام اس بات کو یقینی بناتا ہے کہ طلاق یافتہ خواتین کو بچوں کی پرورش کے لیے بار بار عدالتوں کے چکر نہ کاٹنے پڑیں اور بچوں کا مستقبل محفوظ رہ سکے۔






