دارالحکومت میں جاری تاریخی سفارتی سربراہی اجلاس کو سہل بنانے کے لیے حکومتِ پاکستان نے ایک اہم قدم اٹھاتے ہوئے اسلام آباد ٹاکس 2026 ویزہ آن ارائیول2026 میں شرکت کے لیے آنے والے تمام بین الاقوامی وفود اور صحافیوں کے لیے باضابطہ طور پر‘ویزہ آن ارائیول’ (آمد پر ویزہ) کی سہولت فراہم کرنے کا اعلان کر دیا ہے۔
اس بات کا اعلان وزیرِ خارجہ اسحاق ڈار نے سوشل میڈیا کے ذریعے کیا جہاں انہوں نے باضابطہ نوٹیفکیشن بھی شیئر کیا۔ اس پالیسی کا مقصد تمام شریک ممالک کے نمائندوں کے لیے داخلے کی رکاوٹوں کو ختم کرنا ہے تاکہ اس اعلیٰ سطح کے ایونٹ کے انعقاد میں کسی قسم کی لاجسٹک تاخیر پیدا نہ ہو۔
میڈیا اور سفارت کاروں کے لیے بلا تعطل داخلہ
سرکاری ہدایت نامے کے مطابق پاکستانی حکومت نے مسافروں کی آمد کو باسہولت بنانے کے لیے بین الاقوامی ایئرلائنز اور مقامی امیگریشن حکام کو واضح ہدایات جاری کر دی ہیں۔
ایئرلائنز کے لیے ہدایات: تمام ایئرلائنز کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ وفود اور تسلیم شدہ میڈیا اہلکاروں کو پہلے سے حاصل شدہ ویزے کے بغیر بھی پروازوں پر سوار ہونے (Boarding) کی اجازت دیں۔
امیگریشن کا انتظام: پاکستان کے بڑے ہوائی اڈوں پر امیگریشن ڈیسک کو ہائی الرٹ کر دیا گیا ہے تاکہ شرکاء کی پاکستان پہنچنے پر فوری طور پر ویزے جاری کیے جا سکیں۔
اس اقدام کا مقصد زیادہ سے زیادہ بین الاقوامی شرکت کو یقینی بنانا ہے تاکہ عالمی میڈیا آؤٹ لیٹس سفارتی کارروائی کی براہِ راست کوریج کر سکیں۔
🚨🇵🇰 IMPORTANT TO NOTE
— Eagle Eye (@zarrar_11PK) April 10, 2026
Pakistan has extended visa-free travel to delegates and journalists from participating nations of Islamabad Talks 2026, i.e., Iran and the USA.
🚨 This facility, extended for the duration of the talks, does not cover third-country nationals. https://t.co/EZDMg28aiP pic.twitter.com/0Ncsvt20aF
اعلیٰ سطح کا سفارتی تناظر
اسلام آباد ٹاکس 2026 نے پاکستان کو عالمی امور میں ایک مرکزی ثالث کے طور پر لاکھڑا کیا ہے بالخصوص ایسے وقت میں جب شہر امریکہ اور ایران کے درمیان ہونے والے انتہائی اہم مذاکرات کی میزبانی کر رہا ہے۔ دو ہفتوں کے جنگ بندی معاہدے کے دوران امریکی نائب صدر جے ڈی وینس اور مختلف بین الاقوامی مبصرین سمیت اعلیٰ سطحی وفود کی آمد کے لیے اس قسم کی فوری انتظامی مدد کی ضرورت تھی جو یہ ویزہ پالیسی فراہم کر رہی ہے۔
حکومتی عہدیداروں نے اس بات پر زور دیا کہ اگرچہ داخلے کے عمل کو تیز (Fast-track) کر دیا گیا ہے لیکن سمٹ کی سیکیورٹی اور وقار کو برقرار رکھنے کے لیے آمد کے وقت تمام ضروری سیکیورٹی اور اسناد کی جانچ پڑتال مکمل کی جائے گی۔
مزید اپڈیٹس اور اہم خبروں کے لیے Urdu Khabar کو فالو کریں






