سوشل میڈیا پر اس وقت ایک ہی ویڈیو کی گونج سنائی دے رہی ہے لاہور ایئرپورٹ پر معروف صحافی اور اینکر اقرار الحسن لاہور ایئرپورٹ ویڈیو میں حکام کے ساتھ ہونے والا تلخ جملوں کا تبادلہ۔ علامہ اقبال انٹرنیشنل ایئرپورٹ پر پیش آنے والے اس واقعے نے جہاں ایک بار پھر انتظامیہ کی کارکردگی پر سوالیہ نشانات اٹھائے ہیں وہیں انٹرنیٹ صارفین کو بھی دو دھڑوں میں تقسیم کر دیا ہے۔
ایئرپورٹ ٹرمینل عام طور پر الوداعی آنسوؤں یا واپسی کی مسکراہٹوں کا مرکز ہوتے ہیں لیکن آج یہاں کا منظر بالکل مختلف تھا۔ وائرل ہونے والی ویڈیو میں دیکھا جا سکتا ہے کہ اقرار الحسن ایئرپورٹ عملے اور سیکورٹی حکام کے ساتھ کسی بات پر الجھ رہے ہیں۔
واقعے کی تفصیلات: وائرل ویڈیو میں اصل میں کیا ہوا؟
ابتدائی اطلاعات کے مطابق یہ تصادم اس وقت شروع ہوا جب اقرار الحسن نے مبینہ طور پر مسافروں کے ساتھ ہونے والے ناروا سلوک یا امیگریشن کاؤنٹرز پر ہونے والی بدعنوانی (Bribery) کو بے نقاب کرنے کی کوشش کی۔ ویڈیو میں انہیں عملے سے سوال کرتے ہوئے دیکھا جا سکتا ہے جس کے جواب میں ایئرپورٹ حکام نے انہیں سیکورٹی پروٹوکولز کی خلاف ورزی کرنے سے روکا۔
اس تلخ کلامی کے اہم نکات یہ تھے:
احتساب کا مطالبہ: اقرار الحسن کا موقف تھا کہ وہ ایک عام شہری کے طور پر ان مسائل کو اجاگر کر رہے ہیں جن کا سامنا بیرونِ ملک جانے والے پاکستانیوں کو روزانہ کرنا پڑتا ہے۔
عملے کا ردِعمل: سول ایوی ایشن اتھارٹی (CAA) کے اہلکاروں کا دعویٰ تھا کہ ایئرپورٹ کے حساس حصوں میں بلا اجازت ویڈیو بنانا قانونی جرم ہے۔
عوامی مداخلت: ویڈیو میں وہاں موجود دیگر مسافروں کو بھی اقرار الحسن کے حق میں نعرے بازی کرتے دیکھا جا سکتا ہے جو ایئرپورٹ انتظامیہ سے اپنی دیرینہ شکایات کا اظہار کر رہے تھے۔
عوامی ردِعمل: ہیرو یا محض ویوز کے لیے اسٹنٹ؟
سوشل میڈیا پر اس وقت ایک بڑی بحث جاری ہے۔ صارفین کا ایک گروہ اقرار الحسن کو عوامی ہیرو قرار دے رہا ہے جن کا ماننا ہے کہ اگر وہ آواز نہ اٹھاتے تو انتظامیہ کی من مانیاں جاری رہتیں۔ ان کے مطابق ایئرپورٹ پر ہونے والی بدانتظامی اور فیڈرل انویسٹی گیشن ایجنسی (FIA) کے اہلکاروں کا رویہ اکثر مسافروں کے لیے ذہنی اذیت کا باعث بنتا ہے۔
دوسری جانب ایک طبقہ ایسا بھی ہے جو اس اقدام کو صحافتی مداخلت قرار دے رہا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ:
سیکورٹی رسک: ایئرپورٹ جیسے حساس مقام پر ہنگامہ آرائی سیکورٹی کے لیے خطرہ بن سکتی ہے۔
ایس او پیز کی خلاف ورزی: کسی بھی ادارے میں اصلاحات کے لیے قانونی راستہ اختیار کرنا چاہیے نہ کہ کیمرے کے سامنے عملے کو ہراساں کرنا۔
مواد کی تلاش: ناقدین کا الزام ہے کہ ڈیجیٹل دور میں وائرل مواد کی دوڑ نے صحافت کے معیار کو متاثر کیا ہے۔
ایئرپورٹ پروٹوکولز اور قانونی پہلو
لاہور ایئرپورٹ پر پیش آنے والا یہ واقعہ پہلا نہیں ہے۔ ماضی میں بھی فنکاروں اور سیاسی شخصیات کے ایئرپورٹ حکام کے ساتھ جھگڑے سرخیوں میں رہے ہیں۔ علامہ اقبال انٹرنیشنل ایئرپورٹ کی انتظامیہ نے واضح کیا ہے کہ مسافروں کی سہولت ان کی ترجیح ہے لیکن قانون کو ہاتھ میں لینے کی اجازت کسی کو نہیں دی جا سکتی۔
ایئرپورٹ پر ویڈیو گرافی کے حوالے سے قوانین کافی سخت ہیں خاص طور پر ان جگہوں پر جہاں مسافروں کی تلاشی یا امیگریشن کا عمل جاری ہو۔ تاہم اگر کوئی اہلکار رشوت کا مطالبہ کرے یا بدتمیزی کرے تو شہری کو حق حاصل ہے کہ وہ پورٹل پر شکایت درج کرائے۔
مزید تازہ خبریں اور اہم اپڈیٹس حاصل کرنے کے لیے Urdu Khabar کو ضرور وزٹ کریں۔






