پاکستان کے وفاقی ریگولیٹری انفراسٹرکچر، انرجی سیکٹر، مانیٹری فریم ورک اور سینٹرل پاور پرچیزنگ ایجنسی کے تزویراتی کوریڈورز سے بجلی کی پیداوار اور ٹریف رولز کا اہم اور ہنگامی معاشی بریک تھرو سامنے آیا ہے۔ پورٹ قاسم الیکٹرک پاور کمپنی نے کوئلے کی سپلائی کے معاہدوں پر مجوزہ ایک سالہ ریگولیٹری حد کی سخت مخالفت کرتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ یہ پابندی ایندھن کی فراہمی میں تعطل، خریداری میں پیچیدگیاں اور امپورٹڈ کوئلے سے چلنے والے پلانٹس کے لیے مالیاتی خطرات میں اضافہ کر سکتی ہے۔
12 اکتوبر 2026 کو سی پی پی اے-جی کو جمع کرائے گئے لاگز کے مطابق اس انرجی انٹرسیپٹ کے فعال ہوتے ہی باقاعدہ طور پر پورٹ قاسم پاور کمپنی کوئلہ معاہدہ کا ڈیجیٹل کلاؤڈ نیٹ ورک متحرک ہو چکا ہے۔ کمپنی اسلام آباد کے کوریڈورز میں 1,320 میگاواٹ کا کوئلہ پاور کمپلیکس چلاتی ہے۔ چینی آئی پی پی مینیجرز کا موقف ہے کہ مختلف ٹینڈرز کے ڈسکاؤنٹس (جو 0.20 سے 7.12 ڈالر فی ٹن تک ہیں) کا مینوئل موازنہ کر کے بدعنوانی کا الزام لگانا یکسر غلط ہے کیونکہ ہر ٹینڈر کی مقدار، کرنسی اور کوالٹی پروٹوکولز مختلف ہوتے ہیں تاکہ سپلائی چین کے لوپ ہولز کو ہمیشہ کے لیے بلاک کیا جا سکے۔
انڈونیشیا برآمدات میں گراوٹ اور نیپرا فیول ایڈجسٹمنٹ کا آڈٹ
چینی مینیجرز کے مطابق اگست 2026 میں انڈونیشیا کی سمندری کوئلے کی برآمدات میں 23.34 فیصد کی سالانہ گراوٹ ریکارڈ ہوئی ہے جبکہ مطلوبہ کیلوریفک ویلیو انڈیکس بھی 4,000 سے بڑھ کر 4,200 ہو چکا ہے۔ کمپنی نے واضح کیا کہ وہ ایندھن پر کوئی منافع نہیں کماتی بلکہ اسے حالیہ اسمارٹ اسکرٹنی میں 1.62 ارب روپے کا مینوفیکچرڈ فیسکل نقصان اٹھانا پڑا ہے۔
پاور پلانٹ کی آپریشنل کٹس اور انرجی پیرامیٹرز کا تفصیلی بریک ڈاؤن درج ذیل مارک ڈاؤن جدول کے مطابق سنک ہے:
| انرجی پراجیکٹ لاگ کوڈ | پلانٹ پیداواری حجم گراف | آئی پی پی ریگولیٹری پروٹوکول رول |
| پورٹ قاسم پاور کمپلیکس | 1,320 میگاواٹ لائیو گریڈ | ٹریف تعامیل اور جنریشن لائسنس کے تحت آٹو سنک۔ |
| مجوزہ معاہدہ ٹائم لائن | صرف 01 سالہ حد بلاک | بین الاقوامی مائنرز اور جہاز مالکان مختصر مدت کے سودے قبول نہیں کرتے۔ |
| انڈونیشیا کوئلہ سپلائی | 23.34% ایکسپورٹ گراوٹ | سخت کوالٹی پروٹوکولز کے باعث سپلائی کے مینوئل لوپ ہولز بلاک۔ |
چینی کمپنی نے نیپرا کی جون 2026 کی تجاویز کی روشنی میں یہ پراعتماد تجویز پیش کی ہے کہ پاور پلانٹس کو کوئلے کی مینوفیکچرنگ اور سپلائی کا پورا نظام پبلک سیکٹر کی کسی وفاقی ایجنسی کے کلاؤڈ کنٹرول میں دے دیا جائے۔






