وزیر اعظم شہباز شریف نے اسلام آباد میں ایک اعلیٰ سطحی اجلاس کے دوران دونوں ممالک کی سیاسی جماعتوں کے مابین روابط بڑھانے کی اہمیت پر روشنی ڈالی ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ پاک چین تعلقات کو مزید مستحکم اور دیرپا بنانے کے لیے باہمی سیاسی تعاون ناگزیر ہے۔ یہ ملاقات چینی کمیونسٹ پارٹی کے شعبہ بین الاقوامی تعلقات کے وزیر لیو ہائیکسنگ کے دورہ پاکستان کے دوران ہوئی۔
پاک چین تعلقات اور سیاسی جماعتوں کا کردار
وزیر اعظم کا کہنا تھا کہ دونوں برادر ممالک کی حکمران جماعتوں کے مابین مسلسل اور منظم روابط نہ صرف باہمی اعتماد کو گہرا کرتے ہیں بلکہ اس سے حکومتی سطح پر جاری منصوبوں کو بھی نئی جلا ملتی ہے۔ انہوں نے چینی قیادت کی جانب سے پاکستان کے ساتھ تزویراتی شراکت داری کو برقرار رکھنے کے عزم کو سراہا۔ چینی وزیر لیو ہائیکسنگ نے بھی دوطرفہ تعاون کو مزید وسعت دینے کے عزم کا اعادہ کیا۔
وزیراعظم نے مسٹر لیو ہائی شینگ اور ان کے وفد کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان اور چین کے مابین آہنی دوستی، آزمودہ اور ہر آزمائش پر پورا اترنے والی تزویراتی تعاون پر مبنی شراکت داری قائم ہے۔
— Shehbaz Digital Media (@ShehbazDigital) November 2, 2026
سی پیک فیز ٹو اور اقتصادی راہداری کا فروغ
ملاقات کے دوران چین پاکستان اقتصادی راہداری (CPEC) کے دوسرے مرحلے کے تحت تجارتی سرمایہ کاری، انفراسٹرکچر کی ترقی، انفارمیشن ٹیکنالوجی، اور زرعی شعبے میں جدید کاری پر تفصیلی گفتگو ہوئی۔ وزیر اعظم نے اس بات پر زور دیا کہ معاشی استحکام کے حصول کے لیے پاک چین تعلقات کا معاشی رخ سب سے اہم ستون ہے۔ اس کے علاوہ پاکستان کی جانب سے تجویز کردہ پانچ سیاسی راہداریوں کے فریم ورک پر بھی تبادلہ خیال کیا گیا جس کا مقصد دونوں ممالک کے نوجوانوں اور عوامی وفود کے تبادلوں کو فروغ دینا ہے۔






