ملکی ہیلتھ کیئر انفراسٹرکچر، صوبائی پبلک سروس کمیشن مانیٹرنگ گرڈز اور سرکاری تدریسی ہسپتالوں کے تزویراتی کوریڈورز سے میڈیکل افرادی قوت کے انتظام کا اہم اور دور رس انتظامی بریک تھرو سامنے آیا ہے۔ محکمہ صحت کے اعلیٰ حکام نے ریگولیٹری اصلاحات کے تحت سرکاری ٹیچنگ ہسپتالوں میں ڈاکٹروں کی مستقل ملازمتوں کا خاتمہ کرنے کا حتمی فیصلہ نافذ کر دیا ہے جس کے تحت اب پبلک سروس کمیشن کے مستقل مینوئل کے بجائے سینئر رجسٹرارز کو کنٹریکٹ کی بنیاد پر بھرتی کیا جائے گا۔
23 اکتوبر 2026 کو ڈیش بورڈ لاگز پر موصول ہونے والی اطلاعات کے مطابق میڈیسن، سرجری اور دیگر کلینکل شعبہ جات میں تمام سینئر رجسٹرارز اب صرف تین سالہ کنٹریکٹ فریم ورک کے تحت کام کرنے کے مجاز ہوں گے۔ مستقل اسامیوں کے اس اچانک خاتمے نے نوجوان ڈاکٹروں میں سرکاری ہیلتھ سیکٹر کو یکسر بلاک کر دیا ہے کیونکہ بیوروکریسی کا مینوئل لوپ ہول اب مرحلہ وار مستقل ملازمتوں کے ڈھانچے کو مکمل ختم کرنے کی طرف گامزن ہے۔ ہیلتھ سروسز کے آڈٹ کلاؤڈ کو الائن کرنے کے لیے یہ انتظامی تبدیلیاں رائج کی گئی ہیں۔
تدریسی ہسپتالوں کا آڈٹ اور سروس سٹرکچر کے لازمی پیرامیٹرز
انتظامی مینیجرز کے مطابق اس سمارٹ ریگولیٹری اسکرٹنی کا مقصد ہسپتالوں کے فنانشل لاگز کو متوازن بنانا ہے۔ اب ہیلتھ کیئر سروسز کی میپنگ اور لازمی ریگولیٹری پروٹوکولز کا تفصیلی بریک ڈاؤن درج ذیل مارک ڈاؤن جدول کے مطابق سنک ہے:
| ہیلتھ پراجیکٹ لاگ کوڈ | منظور شدہ ملازمت کی مدت | لازمی ریگولیٹری مانیٹرنگ پروٹوکول |
| سینئر رجسٹرار گرڈ | 03 سالہ کنٹریکٹ ان پٹ | میڈیسن اور سرجری سمیت تمام شعبہ جات میں پی پی ایس سی مستقل کوٹہ منسوخ۔ |
| بیوروکریسی رول | فیز وائز مستقل اسامیاں بلاک | سرکاری ہسپتالوں کے سروس سٹرکچر کو کلاؤڈ ماڈل پر لانے کی کوشش۔ |
| ڈاکٹرز انڈیکس وال | کم ہوتی ہوئی کیریئر دلچسپی | پرائیویٹ پریکٹس اور برین ڈرین کے مینوئل لوپس بڑھنے کا شدید خدشہ۔ |






