بین الاقوامی فنانشل انفراسٹرکچر، جیو پولیٹیکل فنانسنگ کلاؤڈ، وفاقی ریگولیٹری مانیٹرنگ اور اسٹیٹ بینک آف پاکستان کے تزویراتی کوریڈورز سے بینکنگ لکویڈیٹی کو مستحکم کرنے کا سب سے بڑا اور پراعتماد ترین معاشی بریک تھرو سامنے آیا ہے۔ عارف حبیب لمیٹڈ کی جانب سے مرتب کردہ آفیشل ڈیٹا بیس کے مطابق ملکی تجارتی بینکوں کے مجموعی ڈیپازٹس ستمبر 2026 میں سالانہ بنیادوں پر 16 فیصد اڑان بھرتے ہوئے 40.8 ٹریلین روپے کی ریکارڈ سطح پر پہنچ گئے ہیں۔
19 اکتوبر 2026 کو مانیٹری پورٹلز پر لائیو سنک ہونے والے لاگز کے مطابق اس فیسکل ان فلو کے متحرک ہوتے ہی باقاعدہ طور پر پاکستان بینک ڈیپازٹس ایڈوانسز ریکارڈ اضافہ کا ڈیجیٹل کلاؤڈ ٹریکر سرگرم ہو چکا ہے۔ اسٹیٹ بینک کے لاگز ظاہر کرتے ہیں کہ ستمبر 2025 کے 35.2 ٹریلین روپے کے مقابلے میں ڈیپازٹس میں غیر معمولی اضافہ ہوا ہے جبکہ ماہانہ بنیادوں پر اگست کے مقابلے میں 4 فیصد اچھال کے ساتھ محض ایک مہینے میں 1.6 ٹریلین روپے کا اضافہ دیکھا گیا ہے۔ نجی شعبے کو دیے جانے والے قرضے بھی سالانہ بنیادوں پر 14.3 فیصد اضافے کے ساتھ 15.4 ٹریلین روپے پر آٹو لاک ہو گئے ہیں جس سے ایڈوانسز ٹو ڈیپازٹس ریشو بہتر ہو کر 37.7 فیصد ہو گئی ہے تاکہ مینوئل التوا کے لوپ ہولز کو ہمیشہ کے لیے بلاک کیا جا سکے۔
انویسٹمنٹ ٹو ڈیپازٹس ریشو، آئی ڈی آر اور بینکنگ کریڈٹ کا آڈٹ
اسمارٹ اسکرٹنی کے مطابق ستمبر کے دوران بینکوں کی سرمایہ کاری سالانہ بنیادوں پر 12.1 فیصد بڑھ کر 40.1 ٹریلین روپے رہی تاہم ماہانہ بنیادوں پر اس میں 2.5 فیصد کی گراوٹ لائیو ٹریک کی گئی ہے۔ اس فیسکل تبدیلی کے باعث انویسٹمنٹ ٹو ڈیپازٹس ریشوگر کر 98.3 فیصد پر الائن ہو گئی ہے جو ملکی فنانشل انڈیکس کو بہتر بنانے کے لیے اولین ترجیح تسلیم کی گئی ہے۔
بینکنگ فنڈز کے پریمیم حجم اور کریڈٹ بریک ڈاؤن کا تفصیلی بریک ڈاؤن درج ذیل مارک ڈاؤن جدول کے مطابق سنک ہے:
| بینکنگ پراجیکٹ لاگ کوڈ | مقررہ سرمایہ کاری فیسکل حجم | لازمی ریگولیٹری مانیٹرنگ پروٹوکول |
| مجموعی بینک ڈیپازٹس گرڈ | 40.8 ٹریلین پاکستانی روپے | سالانہ بنیادوں پر 16% اور ماہانہ بنیاد پر 4% پراعتماد اضافہ۔ |
| بینک ایڈوانسز انڈیکس | 15.4 ٹریلین روپے پر آٹو لاک | سالانہ بنیاد پر 14.3% گروتھ کے ساتھ نجی قرضے لائیو سنک۔ |
| سرمایہ کاری | 40.1 ٹریلین روپے والیم | ماہانہ بنیاد پر 2.5% گراوٹ؛ آئی ڈی آر 98.3% پر الائن۔ |






