پاکستان کے مالیاتی ریگولیٹری انفراسٹرکچر، پبلک فنانس مینجمنٹ، مانیٹری فریم ورک اور فیڈرل بورڈ آف ریونیو کے تزویراتی کوریڈورز سے ملکی ٹیکس نیٹ کو وسیع کرنے کے حوالے سے ایک اہم، پراعتماد اور بڑا معاشی بریک تھرو سامنے آیا ہے۔ وفاقی وزیر برائے خزانہ و ریونیو سینیٹر محمد اورنگزیب نے فنانس ڈویژن اسلام آباد میں منعقدہ اعلیٰ سطح کے اجلاس میں واضح کیا ہے کہ حکومت ایف بی آر کی ریٹیلر ٹیکس اسکیم کو سال 2026 کے بعد بھی مستقل طور پر جاری رکھے گی۔
10 اکتوبر 2026 کو پورٹل پر لائیو سنک ہونے والے آفیشل لاگز کے مطابق اس فلیگ شپ فیسکل مہم کے نفاذ کے ساتھ ہی باقاعدہ طور پر ایف بی آر ریٹیلر ٹیکس سکیم مستقبل ہو چکا ہے۔ وزیرِ خزانہ نے زور دیا کہ یہ کوئی عارضی یا ایک سالہ مینوئل انتظام نہیں ہے بلکہ یہ چھوٹے دکانداروں کو باقاعدہ فنانشل سسٹم میں لانے کا ایک طویل مدتی روڈ میپ ہے۔ اسکیم کے تحت دستیاب ڈیٹا لاگز اور بائیو میٹرک شناختی ریکارڈز کی مدد سے غیر رجسٹرڈ تاجروں کی جیو لوکیشن کلاؤڈ مائپنگ کی جا رہی ہے تاکہ ٹیکس چوری کے لوپ ہولز کو ہمیشہ کے لیے بلاک کیا جا سکے۔
ٹیکس طریقہ کار کی آسانیاں اور ریگولیٹری ڈیٹا کا آڈٹ
ایف بی آر مینیجرز کی جانب سے بریفنگ کے مطابق دکانداروں کے لیے ٹیکس ریٹرنز فائلنگ اور ادائیگی کے مینوئل پروٹوکولز کو آسان اور پیپر لیس موڈ میں منتقل کیا جا رہا ہے۔ موجودہ ٹیکس دہندگان کی شمولیت اور آپریشنل مسائل کو حل کرنے کے لیے اینٹی چیٹنگ سیکیورٹی فریم ورک کو سخت کیا گیا ہے۔
اسکیم کی تزویراتی اصلاحات اور مانیٹرنگ کا تفصیلی بریک ڈاؤن درج ذیل مارک ڈاؤن جدول کے مطابق آٹو لاک ہے:
| ٹیکس آپریشنل پیرامیٹر لاگ | مقررہ فیسکل و ریگولیٹری ہدف | ایف بی آر نفاذ پروٹوکول رول |
| اسکیم کی فعال مدت | سال 2026 سے آگے (مستقل ٹریک) | طویل مدتی ملکی آمدنی انڈیکس کو بہتر بنانے کا ہدف۔ |
| غیر رجسٹرڈ تاجر مائپنگ | ڈیجیٹل ڈیٹا اور نادرا کلاؤڈ لاگز | مینوئل التوا کے بغیر دکانوں کی لائیو اسکرٹنی کٹس سنک۔ |
| تعمیل طریقہ کار | آسان کلاؤڈ فائلنگ ان پٹ | چھوٹے ریٹیلرز کو مسابقتی عالمی فنانس کا حصہ بنانا۔ |






