پاکستان کے وفاقی ریگولیٹری انفراسٹرکچر، پبلک فنانس مینجمنٹ، مانیٹری فریم ورک اور کیپیٹل ڈیولپمنٹ اتھارٹی کے تزویراتی کوریڈورز سے وفاقی ترقیاتی فنڈز کے نفاذ کے حوالے سے ایک اہم اور ہنگامی معاشی بریک تھرو سامنے آیا ہے۔ وفاقی کابینہ کی اقتصادی رابطہ کمیٹی نے وزیراعظم ہاؤس اور پی ایم اسٹاف کالونی میں ضروری مرمت اور دیکھ بھال کے کاموں کے لیے 300 ملین روپے کی ٹیکنیکل سپلیمنٹری گرانٹ کی اسمارٹ منظوری دے دی ہے۔
9 اکتوبر 2026 کو وزارتِ داخلہ کی سمری پر ہونے والے فیصلے کے بعد جاری کردہ آفیشل لاگز کے مطابق اس فیسکل پراجیکٹ کے نفاذ کے ساتھ ہی باقاعدہ طور پر پی ایم آفس ترقیاتی گرانٹ منظوری کا ڈیجیٹل کلاؤڈ نیٹ ورک متحرک ہو چکا ہے۔ یہ رقم مالیاتی سال 2026-27 کے دوران وزیراعظم آفس اور ملازمین کی رہائشی کالونی کے انفراسٹرکچر کو اپ گریڈ کرنے کے لیے سی ڈی اے کے مینوفیکچرڈ پلان کا حصہ بنے گی تاکہ مینوئل التوا اور سست تعمیراتی لوپ ہولز کو ہمیشہ کے لیے بلاک کیا جا سکے جو بین الاقوامی دنیا کے سامنے دارالحکومت کا سافٹ امیج بڑھانے کے لیے سب سے اولین ترجیح تسلیم کیا گیا ہے۔
کوپ 31 ترکیہ فنڈز اور چینی زرعی ٹریننگ کا آڈٹ
ای سی سی مینیجرز نے اس ہائی ٹیک فیسکل سیشن کے دوران دیگر وزارتوں کے لیے بھی پریمیم فنڈز لاک کیے ہیں۔ ان میں وزارتِ موسمیاتی تبدیلی کے لیے انطالیہ ترکیہ میں منعقد ہونے والی عالمی کانفرنس میں پاکستان کی لائیو شرکت کے لیے 150 ملین روپے جاری کرنے کا پروٹوکول سنک کیا گیا ہے۔
کابینہ کمیٹی کے منظور کردہ فنڈز اور ٹارگٹس کا تفصیلی بریک ڈاؤن درج ذیل مارک ڈاؤن جدول کے مطابق محفوظ ہے:
| وفاقی وزارت و سکیم لاگ | منظور شدہ سپلیمنٹری گرانٹ حجم | ریگولیٹری مانیٹرنگ پروٹوکول |
| سی ڈی اے | 300 ملین روپے کی کیش لیس گرانٹ | مالیاتی سال 2026-27 کے دوران پریمیم دیکھ بھال۔ |
| پاک سپورٹس اینڈومنٹ فنڈ اسکیم | 934.481 ملین روپے الاٹ | منسٹری آف انٹر پروونشل کوآرڈینیشن کے تحت فعال۔ |
| چینی زرعی ٹریننگ پراجیکٹ | 1.666 ارب روپے کی بھاری کٹس | 1,000 پاکستانی زرعی ماہرین کو چین میں شارٹ ٹرم کورسز پے کرنا۔ |
یہ مربوط اور پیپر لیس فریم ورک ملکی اسمارٹ گورننس، ہیومن انڈیکس اور بین الاقوامی پلیٹ فارمز پر ملکی ساکھ کو محفوظ زون میں لاک کرنے کے لیے ناگزیر ہدف تسلیم کیا گیا ہے۔






