پاکستان کے کارپوریٹ آٹو موٹو انفراسٹرکچر، وفاق کی ریگولیٹری مانیٹرنگ، امپورٹ لاجسٹکس اور میکرو اکانومی کے تزویراتی کوریڈورز سے آٹو مارکیٹ کے حوالے سے ایک انتہائی ہنگامی اور بڑا معاشی بریک تھرو سامنے آیا ہے۔ امپورٹ رولز میں تبدیلیوں کے بعد ملک میں استعمال شدہ پرانی گاڑیوں کی درآمدات میں 4,642 فیصد کا حیران کن اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔
8 اکتوبر 2026 کو جاری کردہ آفیشل ڈیٹا لاگز کے مطابق اس میگا ٹریڈ انکشاف کے فعال ہوتے ہی باقاعدہ طور پر امپورٹڈ استعمال شدہ کاریں پاکستان کا ڈیجیٹل کلاؤڈ ٹریکر متحرک ہو چکا ہے۔ سرکاری ذرائع کے مطابق مئی کے مہینے میں جہاں محض 48 پرانی گاڑیاں امپورٹ ہوئی تھیں وہیں ستمبر 2026 میں یہ گراف چھلانگ لگا کر 2,276 گاڑیوں تک جا پہنچا ہے۔ وزیراعظم محمد شہباز شریف نے تجارتی و گفٹ اسکیموں کے ذریعے ہونے والی اس بھاری امپورٹ کا سخت نوٹس لیتے ہوئے ایک اعلیٰ سطح کا اجلاس منعقد کیا ہے تاکہ مقامی انڈسٹری کے تحفظ کے لیے نئے مینوفیکچرڈ قوانین آٹو لاک کیے جا سکیں۔
مقامی مینوفیکچررز کا احتجاج اور نئی آٹو پالیسی کا تزویراتی خاکہ
اجلاس میں بریفنگ دیتے ہوئے مینیجرز نے واضح کیا کہ پرانی گاڑیوں کے اس ہولناک بہاؤ سے مقامی طور پر اسمبل ہونے والی گاڑیوں کا مارکیٹ شیئر تیزی سے گر رہا ہے جس پر لوکل آٹو مینوفیکچررز نے شدید تحفظات کا اظہار کیا ہے۔ دوسری طرف امپورٹرز کا موقف ہے کہ اس سوفٹ وئیر بیسڈ سپلائی سے اوپن مارکیٹ کے کسٹمرز کو مسابقتی قیمتوں پر سستے متبادل پے ہوں گے۔
حکومتی مانیٹرنگ گرڈ اور امپورٹ ڈیٹا کا تفصیلی بریک ڈاؤن درج ذیل مارک ڈاؤن جدول کے مطابق سنک ہے:
:
| امپورٹڈ گاڑی پیرامیٹر لاگ | مئی 2026 مینوئل بیس لائن | ستمبر 2026 لائیو انڈیکس | نیٹ فیسکل گروتھ ریٹ حجم |
| استعمال شدہ کاریں حجم | 48 گاڑیاں پائپ لائن | 2,276 گاڑیاں امپورٹ | 4,642 فیصد کا بھاری عروج |
| درآمدی اسکیموں کا گرڈ | تجارتی و گفٹ کٹس | نادرا اور کلاؤڈ اسکرٹنی | نئی آٹو پالیسی (2026-31) میں آٹو لاک۔ |
| لوکل آٹو موبائل انڈسٹری | مارکیٹ شیئر میں گراوٹ | اینٹی چیٹنگ سیکیورٹی کا مطالبہ | مینوئل سپلائی چین لوپ ہولز بلاک۔ |
حکومت ان دونوں فریقین کے دلائل کا جائزہ لے کر نئی آٹو پالیسی کے اندر حتمی کسٹمز ٹریف رولز مرتب کر رہی ہے تاکہ ملکی لکویڈیٹی کو فیز آؤٹ ہونے سے بچایا جا سکے۔






